بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

والدین کو خوش کرنے کےلئے جھوٹ بولنا


سوال

میں چاہتاہو ں  کے اپنے والدین کی خدمت کرو ں اور مجھ سے  راضی ہوں  ، اس لئے میں اکثر سودا وغیرہ  خود لاتا ہو ں،لیکن مسئلہ یہ ہے کہ  میں وہ چیزیں  مہنگے خریدتا ہو ں اور والدین کو کم قیمت بتاتا ہو تاکہ وہ دوبارہ مجھ ہی سے چیزیں  منگوائیں  اس وجہ سے میرے والدین مجھ سے سودامنگواتے ہیں کہ آپ سستا لیتے ہو   ، کیا اس جھوٹ بولنے سے مجھے گناہ ہو گا یا نہیں ؟میری نیت صرف والدین کو خوش کرنا ہے ۔

جواب

واضح رہے کہ  جھوٹ بولنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے ،اور اس پر بہت سی وعیدیں  وارد ہوئی ہیں ، چنانچہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:مومن ہر خصلت  پر ڈھل سکتا ہے سوائے خیانت اور جھوٹ کے۔ البتہ فقہاءِ کرام نےشرعی مصلحت کی بناء پر  توریہ کرنےکی اجازت دی ہے ۔اور” توریہ“ یہ ہے کہ  ایک لفظ کے دومعنی ہوں ایک معنی قریب اور ایک معنی بعید   متکلم اس لفظ سے معنی بعید مراد لے اور مخاطب اس سےمعنی قریب مراد لے  ۔

 لہذا صورت مسئولہ میں سائل کےلیے اپنے والدین کو خوش كرنے  كےلئے صراحتا جھوٹ بولنا جائز نہیں البتہ ان کو خوش کرنے  کے  علاوه كوئی اور فاسد نیت (دھوکہ وغیرہ ) نہ ہو تو  توریہ کرسکتاہے کہ بولنے والا ایک لفظ سے ایک معنی لے اور مخاطب اس سے دوسرا معنی سمجھے  ۔

 

حدثنا وكيع قال: سمعت الأعمش قال: حدثت عن أبي أمامة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يطبع المؤمن على الخلال كلها إلا الخيانة والكذب."( مسند الإمام أحمد بن حنبل، رقم الحديثِ22180،ج:36،ص:504)

واعلم أن التوريةَ والتعريضَ معناهما: أن تُطلقَ لفظاً هو ظاهرٌ في معنى، وتريدُ به معنىً آخر يتناوله ذلك اللفظ، لكنه خلافُ ظاهره...قال العلماء: فإن دعتِ إلى ذلك مصلحةٌ شرعيةٌ راجحةٌ على خداعِ المخاطب أو حاجة لا مندوحةَ عنها إلا بالكذب، فلا بأس بالتعريض، وإن لم يكن شئ من ذلك فهو مكروهٌ وليس بحرام، إلا أن يُتوصَل به إلى أخذ باطل أو دفع حقّ، فيصيرُ حينئذ حراماً، هذا ضابطُ الباب(الأذكارللنووي،باب التعريض والتوريه،ص:380)


فتویٰ نمبر : 5697/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں