بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

عذر کی وجہ سے روزہ توڑنے کا حکم


سوال

ہم لوگ رمضان میں افغانستان   سے  آرہے تھے ، راستے میں شدید قے  کی اور پھر شدید اور ناقابل برداشت پیاس کی وجہ سے  میں نے تربوز کھائی ۔جب کہ مغرب کی اذان کے لیے 15 منٹ باقی تھے۔ اب مجھ پر قضاء اور کفارہ دونوں لازم ہیں یا صرف قضاء؟

جواب

جب روزہ دار کو پیاس کی  شدت  اتنی زیادہ ہو کہ  اگر اس  کی وجہ سے روزہ نہ توڑا جائے  تو جان جانے یا سخت تکلیف میں پڑجانے کا خطرہ ہو، تو ایسی صورت میں روزہ توڑنے کی گنجائش ہے اور  صرف قضا لازم ہوتی ہے ، کفارہ لازم نہیں ہوتا ،لیکن  اگر پیاس  ایسی  ہو کہ  قابل برداشت ہو   اور پھربھی  روزہ توڑا جائے ، تو ایسی صورت میں قضا اور کفارہ دونوں لازم ہوتے ہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر سائلہ کو قے کی وجہ سے  ناقابل برداشت پیاس لگی تھی تو ایسی صورت میں روزہ توڑنے کی وجہ سے سائلہ  پر کوئی کفارہ واجب نہیں ہوا،صرف اسی  ایک روزے کی قضا  لازم ہے۔

 

"(ومنها العطش والجوع كذلك) إذا خيف منهما الهلاك أو نقصان العقل كالأمة إذا ضعفت عن العمل وخشيت الهلاك بالصوم، وكذا الذي ذهب به موكل السلطان إلى العمارة في الأيام الحارة إذا خشى الهلاك أو نقصان العقل".(الفتاوى الهندية،كتاب الصوم،الباب الخامس،ج:1،ص:207)


فتویٰ نمبر : 9887/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں