بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

پیش امام کو حرام آمدنی سے تنخواہ دینا


سوال

میں کسی  محلہ کا پیش امام ہوں ،لیکن میرے مقتدیوں کی آمدنی حرام ہےکیونکہ وہ سارے  چرس وغیرہ حرام چیزوں کا کاروبار کرتے ہیں، اور روزانہ وہ لوگ مجھے کھانا بھی کھلاتے ہیں تو میرے لئے ان سے تنخواہ لینا اور کھانا کھانے کا کیا حکم ہے؟

جواب

جو مال ناجائز اور حرام طریقے سے حاصل کیا جائے وہ اصل مالک کو واپس لوٹانا واجب ہے ۔ ایسے مال سے تنخواہ اور ہدیہ وصول کرنا جائز نہیں لہذا صورتِ مسؤلہ کے مطابق اگر سائل کے محلہ کے افراد   کی مکمل آمدنی یا اکثر حرام ہو تو پھر اس ان سے تنخواہ اور کھانا وصول کرنا جائز نہیں البتہ اگر حرام آمدنی کے علاوہ حلال کمائی کا بھی کوئی ذریعہ ہواور اس سے تنخواہ دیں یا غالب آمدنی حلال ہو تو پھر وصول کرنا جائز ہے۔نیز اہل محلہ کو چایئے کہ امام صاحب  کے لئے حلال مال سے تنخواہ اور کھانے کا انتظام کریں بصورت دیگراگر اہل محلہ اس کا اہتمام نہ کریں تو پھر  کسی اور جگہ امامت اختیار کرنی چاہیئے۔

 

والسبيل ‌في ‌المعاصي ردها وذلك هاهنا برد المأخوذ إن تمكن من رده بأن عرف صاحبه وبالتصدق به إن لم يعرفه ليصل إليه نفع ماله۔(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراھیہ،الباب الخامس عشر فی الکسب،ج5،ص349)

قوله ( الحرام ينتقل ) أي تنتقل حرمته وإن تداولته الأيدي وتبدلت الأملاك۔۔۔وما نقل عن بعض الحنفية من أن الحرام لا يتعدى ذمتين  سألت عنه الشهاب ابن الشلبي فقال هو محمول على ما إذا لم يعلم بذلك۔(ردالمحتار علی الدرالمختار،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،مطلب الحرمۃ تتعدد،ج7،ص300،301) 


فتویٰ نمبر : 3461/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں