بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

عدالت کے ذریعے تنسیخ نکاح بذریعہ خلع کا شرعی حکم


سوال

خالدہ الیاس کا نکاح خالد خان کے ساتھ اپریل 2010ء میں ہوا رخصتی کے بعد ابتدائی ایام میں شوہرکا رویہ بیوی کےساتھ درست تھا، اور ان کی اولاد بھی ہوئی،لیکن بعد میں شوہر آئس وچرس کا نشہ کرنے لگا،اور بیوی کے منع کرنے   پر ظلم وستم کرتا تھا اور بچوں کا بھی خیال نہیں رکھتا تھا، بالاخراس نےبیوی پر شدید ظلم وستم کرکے آج سے چھ سال قبل گھر سے نکال دیا،اور اب وہ اپنے والدین کے گھر رہائش پذیر ہے،اس دوران شوہر نےکوئی خبر گیری نہیں کی اور نہ ہی بچوں کا حال دریافت کیا ہے،جبکہ ایک بیٹی کی پیدائش بھی بیوی کے والدین کے گھر ہوئی ہے، اب وہ نہ اس  کو آباد کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی نشہ ترک کررہا ہے،اور اب بیوی بھی اس کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی ،اس وجہ سے اس نے عدالت سے رجوع کیااور تنسیخ نکاح بذریعہ خلع کی استدعاکی اور اپنے حق مہر سے دستبراد ہوئی،عدالت میں  شوہر یا اس کا وکیل باوجود بلانے کے حاضر نہیں ہوا ،توعدالت نے اس کے حق میں تنسخ نکاح بذریعہ خلع کافیصلہ کیا  جس کے کاغذات ساتھ لف ہیں تو کیا شرعا یہ فیصلہ معتبر ہے؟

جواب

میاں بیوی کے ازدواجی تعلقات قائم ہونے کے بعد اگر شوہر باوجود قدرت کے بیوی کے حقوق اور نان نفقہ وغیرہ کی ادائیگی نہ کرے اور اس پر ظلم وستم کرےجس کی وجہ سے عورت کے لیے خاوند کے ساتھ زندگی گزارنا مشکل ہو تو ایسی صورت میں اصل حکم تو یہ ہے کہ عورت شوہر کو طلاق یا خلع پر راضی کرکے اس سے چھٹکارا حاصل کرے تا ہم اگر شوہر نہ حقوق ادا کررہا ہو اور نہ ہی طلاق یا خلع پر راضی ہوتا ہو تو ایسی صورت میں شوہر متعنت کہلاتا ہے اور متعنت کی بیوی کو مسلمان حاکم یا عدالت کی طرف رجوع کرنے کا اختیار ہے۔عدالت کی طرف رجوع کرنے کے بعد اگر عدالت نے مکمل تحقیق کی اور عورت نےشوہر کے ظلم و ستم کو ثابت کیاتو عدالت شوہر کو حکم دے گی کہ یا تو بیوی کو صحیح طریقے سے آباد کرے یا طلاق دے اگر وہ آباد کرے تو ٹھیک ،ورنہ اگر انکار کرے یا عدالتی  سمن ملنے کے باوجود عدالت میں شوہر یا اس کا وکیل حاضر نہ ہو اور بیوی اس کی زوجیت سے نکلنا چاہتی ہو تو پھر عدالت عورت کو تنسیخ نکاح کی ڈگری دے سکتی ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق  شوہرکا عدالتی سمن ملنے کے باجود حاضر نہ ہونے سے اس کا تعنت ثابت ہوتا ہے، لہذاعدالت نے  اس بنا پرتنسیخ نکاح کی  جوڈگری دی ہے وہ شرعا معتبر ہے۔  عورت عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔

 

قال الله تعالى:﴿فَإِنۡ ‌خِفۡتُمۡ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَا فِيمَا ٱفۡتَدَتۡ بِهِ﴾(البقرة:229) 

وإذا ‌تشاق ‌الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به.(الهداية،باب الخلع،ج:2،ص:404)

وأما المتعنت الممتنع عن الإنفاق ففي مجموع الأمير ما نصه إن منعها نفقة الحال فلها القيام فإن لم يثبت عسره أنفق أو طلق وإلا طلق عليه، قال محشيه:قوله(وإلا طلق عليه) الحاكم من غير تلوم.(الحيلة الناجزة،ص:133)


فتویٰ نمبر : 6834/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں