بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

شک كی صورت میں حرمت رضاعت کا حکم


سوال

ایک عورت نے خطا سے دوسری عورت کے بچے کو اپنا بچہ سمجھ کر دودھ پلانے کی غرض سے سینے سے لگایا۔ بچے کا سینے پر منہ لگاتے ہی اس عورت کو غلطی کا ادراک ہوا تو اس نے فوراً بچے کو ہٹایا۔ اب اس کو شک ہے کہ بچے نے دودھ پیا ہے یا نہیں۔ کیا  اس صورت میں حرمت رضاعت ثابت ہوگی یا نہیں؟

جواب

حرمت رضاعت کے ثبوت کے لیے ضروری ہے کہ یہ یقین ہوجائے کہ دودھ بچے کے معدے تک پہنچ گیا ہے، چاہے دودھ کی مقدار کم ہو یا زیادہ۔ جب تک دودھ پینے میں شک ہو اور یقینی طور پر بچے کے معدے تک دودھ پہنچنا معلوم نہ ہو تو محض شک کی بنا پر حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔صورت مسئولہ کے مطابق اگر عورت کو بچے کے دودھ پینے میں محض شک ہو،توحرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔

 

قليل الرضاع وكثيره إذا حصل في مدة الرضاع تعلق به التحريم كذا في الهداية. قال في الينابيع. والقليل مفسر بما يعلم أنه وصل إلى الجوف كذا في السراج الوهاج. (الفتاوى الهندية، ج:1، ص:342، دار الفكر، بيروت)

فلو التقم الحلمة ولم يدر أدخل اللبن في حلقه أم لا لم يحرم لأن في المانع شكا... (قوله فلو التقم إلخ) تفريع على التقييد بقوله إن علم. وفي القنية: امرأة ‌كانت ‌تعطي ‌ثديها صبية واشتهر ذلك بينهم ثم تقول لم يكن في ثديي لبن حين ألقمتها ثدي ولم يعلم ذلك إلا من جهتها جاز لابنها أن يتزوج بهذه الصبية. (رد المحتار على الدر المختار، ج: 3، ص: 212، دار الفكر، بيروت)


فتویٰ نمبر : 6836/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں