بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 22/10/2026 |
دارالافتاء
والده كا اپنے حصے سے دستبردارہونے کا حکم
سوال
ایک خاتون وفات پاچکی ہے اور اس کی ورثا میں سے ایک اس کی والدہ بھی ہے مرحومہ کی وفات کے بعد والدہ اپنا حصہ چھوڑنے پہ رضا مند ہیں اور مرحومہ کے بھائی کے ذریعے کئی دفعہ پیغام بھجوایا ہے کہ میں جائیداد میں حصہ نہیں مانگتی ،مرحومہ کی والدہ کے زبانی الفاظ کی صورت میں جائیداد سے دستبرداری شریعت کی روسے ثابت ہوگی یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ وراثت کی تقسیم سے پہلے کسی وارث کا اپنے حصہ سے بلا عوض دست بردار ہوجانا ،يا معاف کردینا شرعا معتبر نہیں ہے، البتہ ترکہ تقسیم ہوجائے تو پھر ہر ایک وارث اپنے حصے پر قبضہ کرنے کے بعد اپنا حصہ کسی کو دینا چاہے، تو یہ شرعا جائز اور معتبر ہے۔
صورت مسئولہ میں اگر والدہ ترکہ کی تقسیم سے پہلے اپنے حصہ سے دستبردار ہورہی ہے تو اس کا یہ دستبردارہونا شرعا معتبر نہیں، لہذا مرحومہ کے ورثا پر لازم ہے کہ مرحومہ کی جائیداد میں والدہ کا جو شرعی حصہ ہے وہ حصہ اس کو دے دیں ،جب وہ اپنے حصے پر قبضہ کردے تو پھر اگر وہ اپنے حصے سے دستبردار ہوجائے تو یہ شرعا جائز اور معتبر ہوگا ،نیز یہ بھی جائز ہے کہ والدہ میراث کے تقسیم سے پہلے ترکہ میں سے کسی چیز پر راضی ہو کر اس کولے لے اور اس کے بدلے اپنا حصہ چھوڑدے ۔
الارث جبري لَا يسْقط بالاسقاط.( تكملة رد المحتار على الدر المختار،باب التحالف،ج:8،ص:116)
لو قال وارث تركت حقي لا يبطل حقه إذ الملك لا يبطل بالترك.( البحر الرائق شرح كنز الدقائق،جعل الواقف غلة الوقف لنفسه أو جعل الولاية إليه،ج:5،ص:243)
من صالح علی شيء من التركة : فاطرح سهامه من التصحيح ثم اقسم ما بقي من التركة علي سهام الباقين۔(السراجي في الميراث،فصل في التخارج،ص:93)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں