بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

ایک بیوہ ، 4 بیٹوں اور 2 بیٹیوں میں میراث کی تقسیم


سوال

سعیدعالم  فوت ہوا اس کے ورثا میں سے ایک بیوہ( دواجان ) ، 4بیٹوں  (حبیب خان ، سیدان خان ، عمر خان اور محمد حاضر خان ) اور 2 بیٹیاں ( حیوان اور مُنا) موجود ہیں ۔ مرحوم کا میراث مذکورہ ورثا میں کس حساب سے تقسیم کیا جائے گا ؟اور اگر ان میں سے بیوہ اور بیٹیوں کو ترکہ میں سے حصہ نہ دیا جائے  تو شرعا اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

میـــــــــــــ(سعید عالم )ـــــــــــــ(80)ــــــــــــــــــــــــــــــــــت

   بیوہ         بیٹا          بیٹا           بیٹا            بیٹا            بیٹی     بیٹی

دواجان  حبیب خان   سیدان خان  عمرخان     محمدحاضرخان   حیوان     منا

   10        14          14          14             14             7        7

بشرط صدق وثبوت اگر مرحوم کے مذکورہ بالا ورثا کے علاوہ اور کوئی قریبی وارث زندہ موجود نہ ہو تو بعد ازادائے حقوق متقدمہ علی الارث مرحوم کا ترکہ  اسی(80)حصوں میں تقسیم ہو کر بیوہ (دواجان ) کو 80/ 10 حصے، چار  بيٹوں (حبیب خان ، سیدان خان ، عمر خان اور محمد حاضر خان) ميں سے ہر ایک بیٹےکو14/80حصے اور 2بيٹيوں (حیوان اور مُنا)ميں سے ہر ایک بیٹی کو7/80حصے ملیں گے ۔

             اللہ تعالی نے قرآنِ کریم میں میراث کے احکام اور ورثا کے حصوں کی تفصیل نہایت وضاحت کےساتھ بیان کی ہے۔  میراث کو انہی حصوں کےمطابق تقسیم کرنا فرض ہے۔  جس طرح میراث میں بیٹوں کا حق ہے اسی طرح بیٹیوں اور بیوہ کا بھی حق ہے ہر ایک کو اپنے حق کے مطابق حصہ دینا فرض ہے کسی کو محروم کرنا یا اس کے حصے سے کم دینا گناہ کبیرہ اور ناجائز ہے ۔  احادیثِ مبارکہ میں دوسروں کے مال کوناحق کھانے والوں کےمتعلق کئی وعیدیں واردہوئی ہیں ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:" جس شخص نے اپنے وارث کو میراث سے محروم کیا  تو قیامت  کے روز اللہ تعالی اس کو اس کے جنت کے حصے سے محروم کر دیں گے"۔اسی طرح حضرت سعید ابن زیدرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جس شخص نے کسی کی زمین سے ظلماً ایک بالشت جگہ بھی لی اس کو قیامت کے دن سات زمینوں سے اس کا طوق پہنایا جائے گا"۔

 

قال الله تعالی:﴿‌ یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْۗ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِۚ ﴾(النساء ، الأية:11)

وقال تعالی:﴿فَاِنْ  كَانَ  لَكُمْ  وَلَدٌ  فَلَهُنَّ  الثُّمُنُ  مِمَّا  تَرَكْتُمْ  مِّنْۢ  بَعْدِ  وَصِیَّةٍ  تُوْصُوْنَ  بِهَاۤ  اَوْ  دَیْنٍ﴾(النساء،الأية:12)

عن أنس بن مالك قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم:"من فر من ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة". (سنن ابن ماجة،كتاب الوصايا، باب الحيف في الوصية، رقم الحديث:2703، ج:2، ص:902)

عن سعيد بن زيد، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول:" من أخذ شبرا من الأرض ظلما، فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين".(الصحيح لمسلم، باب تحريم الظلم والغصب وغيرها، رقم الحديث:1610، ج:3، ص:1231)


فتویٰ نمبر : 3533/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں