بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

شرط کے نہ پائے جانے کی صورت میں نذر کا حکم


سوال

اگر  عورت نے اس طرح نذر مانی  کہ''اگر اللہ نے میرے والد کو بیماری سے صحت یاب کیا تو میں تین روزے رکھوں گی'' مگر اس کے والد صحت یاب نہیں ہوئے تو کیا  اس صورت میں اس پر تین روزے رکھنالازم ہوں  گے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر نذر کو کسی شرط کے ساتھ معلق  کیا جائے تو  اس شرط کے پائے جانے کی صورت میں  نذر کا پورا کرنا و اجب ہو  گاااور اگر وہ  شرط نہیں  پائی گئی تواس  نذر کا پورا کرنا واجب نہیں ہو گا۔

صورت مسؤلہ کے مطابق جس عورت  نے اس طرح نذر مانی ہو کہ''اگر اللہ نے میرے والد کو بیماری سے صحت یاب کیا تو میں تین روزے رکھوں گی''  لیکن  اس کے والد  اس بیماری سے صحت یاب نہیں ہوئے تو اس صورت میں اس پر تین روزے رکھنا  واجب نہیں ہوں گے۔

 

وإن كان معلقا بشرط نحو أن يقول: إن شفى الله مريضي، أو إن قدم فلان الغائب فلله علي أن أصوم شهرا، أو أصلي ركعتين، أو أتصدق بدرهم، ونحو ذلك فوقته وقت الشرط، فما لم يوجد الشرط لا يجب بالإجماع.(الفتاوى الهندية،ج:5،ص:93)


فتویٰ نمبر : 9883/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں