بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

"اگر میں بے غیرت ہوں تو میری بیوی مجھ پر طلاق ہے" کہنے سے طلاق کا حکم


سوال

 زید اور بکر دونوں بھائی ہیں۔ زید نے بکر سے کہا کہ تم ہر وقت اپنی بیوی سے لڑتے جھگڑتے ہو، تم بہت بے غیرت ہو۔ اس کے جواب میں بکر نے کہا کہ اگر میں بے غیرت ہوں تو میری بیوی مجھ پر طلاق ہے۔ پھر جب زید نے مزید کچھ باتیں سنائیں، تو اس پر غصہ ہوکر بکر نے کہا کہ طلاق ہے، طلاق ہے اور کہا کہ مزید میرا دماغ خراب مت کرو، مجھے اپنے حال پر چھوڑ دو۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ اس صورت میں طلاق ہوئی ہے یا نہیں؟دوسری بات یہ کہ کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟

جواب

طلاق کے صریح الفاظ بولنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے، نیز اگر کوئی شخص ایسے فعل پر طلاق کو معلق کردے جس کی حقیقت کا علم اسکے اعتراف سے ہوسکتا ہے، تو اس طلاق کا وقوع اسی شخص کے اعتراف اور بیان پر موقوف ہوگا، اگر وہ اس فعل کا اعتراف کرے تو طلاق واقع ہوجائے گی ورنہ نہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق بکر کے "طلاق ہے، طلاق ہے" کہنے سے دو طلاقیں واقع ہوچکی ہیں، جب کہ "اگر میں بے غیرت ہوں تو میری بیوی مجھ پر طلاق ہے" کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوگی، ہاں اگر ایسا کہنے کے بعد اس نے خود اعتراف کیا کہ میں بے غیرت ہوں تو پھر تیسری طلاق بھی واقع ہوکر حرمت مغلظہ کے ساتھ بیوی اس پر حرام ہوجائے گی۔

 

ولا يلزم ‌كون ‌الإضافة صريحة في كلامه؛ لما في البحر لو قال: طالق فقيل له من عنيت؟ فقال امرأتي طلقت امرأته... فهذا يدل على وقوعه وإن لم يضفه إلى المرأة صريحا. (رد المحتار على الدر المختار، ج:3، ص:248، دار الفكر، بيروت)

وإذا قالت لزوجها: ياسفلة! فقال: إن كنت أنا سفلة فأنت طالق، وأراد التعليق لايقع الطلاق مالم يقل: "أنا سفلة" وتكلموا في معنى "السفلة" قال أبوحنيفة: المؤمن لايكون سفلة، بل السفلة هو الكافر، وعن أبي يوسف: أن السفلة الذي لا يبالي ما قال و ما قيل له،... وفي النوازل: من يشتم امرأته... وفي المنتقى: رواية مذكورة أن السفلة الخسيس في العقل والدين، وقيل في تفسيره: "بے حميت" وهو الذي لايمنع امرأته عن كشف الوجه عن غير المحارم... وقال بعضهم: الذي لاىخاف الله، وفي الذخيرة: أما السفلة فعن محمد: هو الذي لاحسب له و لانسب، أو يسرق شيئا لاخطر فيه، وفي العتابية: وعند المتأخرين: المختار هو الذي يأتي بالأفعال الدنيئة. (الفتاوى التاتارخانية، ج:5، ص:134، 135، مكتبه رشيدية، كوئٹه)


فتویٰ نمبر : 6837/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں