بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

صفوں کو درست نہ رکھنے سے متعلق حديث ميں وعید کی تحقیق


سوال

جو صفوں کو بگاڑتا ہے اللہ اس کے چہرے کو بگاڑ دیتا ہے،کیا شرعاً یہ بات درست ہے؟

جواب

احادیث مبارکہ میں جماعت کی نماز میں صفوں کو سیدھا کرنے کی نہایت تاکید آئی ہےاور صفوں کا خیال نہ رکھنے پرسخت وعید منقول ہے،چنانچہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:تم ضرور بضرور صفوں کو درست کرو ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے چہروں کو پھیردیں گا ،اس حدیث  کے علماء حضرات نے  مختلف معانی بیان کئے  ہیں جو درج ذیل ہیں(1) اللہ تعالیٰ  اس کے چہرے کو مسخ کردے گا۔   (2) اچھے صفات سے محروم   کردے گا۔(3) ان کے دلوں میں دشمنی اور بغض   ڈال دے گا۔

 

عن عمرو بن مرة، قال: سمعت سالم بن أبي الجعد الغطفاني، قال: سمعت النعمان بن بشير قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:لتسون صفوفكم، أو ‌ليخالفن الله بين وجوهكم.(صحيح مسلم،كتاب الصلوة،باب تسوية الصفوف،ج:1،ص:324)

(لتسون صفوفكم أو ليخالفن الله بين وجوهكم) قيل معناه يمسخها ويحولها عن صورها لقوله صلى الله عليه وسلم يجعل الله تعالى صورته صورة حمار وقيل يغير صفاتها والأظهر والله أعلم أن معناه يوقع بينكم العداوة والبغضاء واختلاف القلوب كما يقال تغير وجه فلان علي أي ظهر لي من وجهه كراهة لي وتغير قلبه علي لأن مخالفتهم في الصفوف مخالفة في ظواهرهم واختلاف الظواهر سبب لاختلاف البواطن.(المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج،أبو زكريا محيي الدين يحيى بن شرف النووي،كتاب الصلوة،باب تسوية الصفوف،ج:4، ص:157)


فتویٰ نمبر : 9888/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں