بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

بدلِ خلع کی مقدار


سوال

کیا بدلِ خلع کی مقدار کی کوئی حد مقرر ہے یا اس میں کوئی کمی بیشی ہوسکتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ شرعا بدل خلع کی کوئی مقدار متعین نہیں ہے، لہذا دونوں فریقین کسی بھی  مقدار پر اتفاق کرسکتے ہیں تاہم اگر میاں بیوی کے درمیان اختلافات و ناچاقی کا سبب شوہر ہو تو ایسی صورت میں دیانۃ خلع کے عوض میں شوہر کے لیے کچھ لینا جائز نہیں، لیکن اگر وہ عوض لے لیتا ہے تو اس پر اس کی ملکیت ثابت ہوجائے گی، اور اگر نا چاقی و اختلاف کا سبب بیوی ہو تو ایسی صورت میں شوہر کے لیے مہر کے طور پر دیاگیا  مال بطورعوض لینا جائز ہےجبکہ اس  سے زیادہ وصول کرنا مکروہ ہے۔

 

إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية.إن كان ‌النشوز من قبل الزوج فلا يحل له أخذ شيء من العوض على الخلع وهذا حكم الديانة فإن أخذ جاز ذلك في الحكم ولزم حتى لا تملك استرداده كذا في البدائع.وإن كان ‌النشوز من قبلها كرهنا له أن يأخذ أكثر مما أعطاها من المهر ولكن مع هذا يجوز أخذ الزيادة في القضاء كذا في غاية البيان.)الفتاوى الهنديه،الفصل الاول في شرائط الخلع وحكمه،ج:1،ص:488)


فتویٰ نمبر : 6828/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں