بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

رضاعی بھائی کی بہن سے نکاح کرنا


سوال

سوتیلی دادی نے نواسے محمدعلی اور پوتے احمد کو دودھ پلایا اب نواسے سے بڑی بہن عائشہ یعنی (نواسی) کا اس پوتے احمدکے بھائی حضرت علی کے ساتھ نکاح ہو سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

 جب کوئی بچہ مدت رضاعت میں کسی عورت کا دودھ پی لے تو یہ خاتون اس بچے کی رضاعی ماں اور اس کی تمام اولاد اس بچے کے رضاعی بھائی  بہن بن جاتے ہیں البتہ یہ حکم صرف اس بچے کے ساتھ خاص ہے جس نے دودھ پیا ہو چنانچہ اس کے بقیہ بھائیوں یا بہنوں کے لئے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوگی بشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ نہ ہو۔

 لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق محمدعلی کی بہن عائشہ کا نکاح احمد کے بھائی حضرت  علی کے ساتھ کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ نہ ہو۔

 

عن عمرة بنت عبد الرحمن، أن عائشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم أخبرتها: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان عندها، وأنها سمعت صوت رجل يستأذن في بيت حفصة، قالت: فقلت: يا رسول الله، هذا رجل يستأذن في بيتك، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «أراه فلانا»، لعم حفصة من الرضاعة، قالت عائشة: لو كان فلان حيا - لعمها من الرضاعة - دخل علي؟ فقال: «نعم، الرضاعة تحرم ما تحرم الولادة».(صحيح البخاري، ج:2، ص:764، رقم الحديث:5099)

يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا.(الفتاوى الهندية، ج:1، ص:343)

(‌وتحل ‌أخت ‌أخيه رضاعا) يصح اتصاله بالمضاف كأن يكون له أخ نسبي له أخت رضاعية، وبالمضاف إليه كأن يكون لأخيه رضاعا أخت نسبا وبهما وهو ظاهر.(و) كذا (نسبا) بأن يكون لأخيه لأبيه أخت لأم، فهو متصل بهما لا بأحدهما للزوم التكرار كما لا يخفى.(ولا حل بين رضيعي امرأة) لكونهما أخوين وإن اختلف الزمن والأب.(الدرالمختارمع ردالمحتار،ج:3، ص:217)


فتویٰ نمبر : 6842/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں