بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

ایپ کے ذریعے خرید وفروخت سے نفع کمانے کا شرعی حکم


سوال

ایک ایپ ہے  جس میں اکاونٹ کھولنے اور شاپ اوپن کرنے کے لیے سب سے پہلے 100 ڈالر یعنی پاکستانی 30000روپے انویسٹ کرنے پڑتے ہیں جس میں مختلف قیمتوںوالی چیزوں کے اشتہار دکھائے جاتے ہیں اور Userچیز کو  کلک کر کے خریدتا ہے  پھر کمپنی آگے بیچ کر اس کو متعین نفع دیتی ہے  تو پوچھنا یہ ہے  کہ اس ایپ پر نفع ملنا شرعاً جائزہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ خرید وفروخت کے جائز ہونے کی بنیادی شرطوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مبیع (جس چیز کو بیچا جارہا ہے )حقیقت میں موجود ہو اور وہ مال متقوم ہو ،محض فرضی چیز نہ ہو،اور خریدنے کے بعد اس پر قبضہ کر کے ہی آگے فروخت کیا جائے ، چنانچہ اگر کوئی چیزموجود نہ ہو یا قبضہ میں نہ ہو تو اس کی بیع جائز  نہیں۔

صورت مسؤلہ کے مطابق مذکورہ ایپ میں جن اشیا کی خرید وفروخت ہو تی ہے  پہلے تو فروخت کنندہ کی ملکیت میں ان اشیا کے موجود ہونے کا کوئی قطعی علم نہیں اور اگرموجود ہوتوقبضہ کیے بغیران کوآگے فروخت کیا جاتا ہے اس لیے شرعاً اس ایپ میں سرما یا کاری کرنا  جائز نہیں ، نیز ظاہری نوعیت کے لحاظ سے یہ ایپ محض ایک فراڈ نظر آرہا ہے اس لیےبہر حال اس سے اجتناب ضروری ہے۔

 

وشرط المعقود عليه ستة كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه وكون الملك البائع فيما يبيعه لنفسه وكونه مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وماله خطر العدم۔  (رد المحتار،كتاب البيوع،ج4،ص505)

ومنها وهو شرط انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكا للبائع عندالبيع فإن لم يكن لا ينعقد وإن ملكه بعد ذلك بوجه من الوجوه إلا السلم خاصة وهذا بيع ما ليس عنده. (بدائع الصنائع،ج:5،ص:146)


فتویٰ نمبر : 5733/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں