بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

خود کو یہودی کہنے یا ویزہ فارم میں غیر مسلم ظاہر کرنے کا حکم


سوال

اگر کسی شخص نے یہ بات کہی کہ میں یہودی ہوں یا کاروبار کے سلسلہ میں ویزہ فارم میں یا دوسری کسی چیز میں یہودی یا عیسائی نام ظاہر کیا لیکن اس کو یہ علم نہیں  کہ ان کفریہ کلمات  کہنے یا لکھنے سے آدمی کافر ہوجاتا ہے تو کیا مذکورہ شخص پر کفر کا حکم لگے گا یا اس کا جہل عذر معتبر شمار ہو کر عدم کفر کا حکم ہوگا؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے کلمہ کفر کہتے وقت یا کافر مذہب کی طرف اپنی نسبت کرتے وقت اگرکفر کا عقیدہ بھی ہو  تو ایسی صورت میں ایسا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے لیکن اگر کفر کا عقیدہ نہ ہو بلکہ کسی دنیوی مفاد کی خاطر کسی اور مذہب کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے اور نيت نہ ہوتو اگرچہ یہ بڑی جرأت اور عظیم گناہ ہےاور اس سے اس شخص کے ایمان کو خطرہ لاحق ہوتا ہے کیونکہ ایسا شخص آگے جاکر دنیوی مفاد کی خاطر ایمان سے ہاتھ دھوسکتا ہے تاہم عقیدہ نہ ہونےکی وجہ سے وہ کافر نہیں ہوتا۔

صورت مسؤلہ کے مطابق جوشخص یہ عقیدہ رکھتے ہوئے  اپنے آپ کو یہودی کہے ،کہ وہ  یہودی ہے یا ویزہ فارم میں اپنے آپ کو”غیرمسلم “ ظاہر کرے اور عقیدہ میں بھی اسلام سے انحراف ہو،تو اس سے وہ کافر ہوگا  اور اس پر تجدید ایمان اور تجدید نکاح لازمی ہے ۔لیکن اگر اس کا عقیدہ کفر کا نہ ہو بلکہ صرف دنیوی مفاد کی خاطراس طرح کرے تو ایسے شخص کو کافر نہیں کہا جاسکتا تاہم اس عمل پر سچے دل سے توبہ و استغفار لازم ہے اور کسی کو ایسا دھوکہ دینا حرام ہے خاص کر غیر مسلم سے ایسے دھوکہ آمیز رویہ اسلام کی بدنامی کے سوا اور کچھ نہیں۔

 

ومن أتی بلفظة الكفر مع علمه أنها لفظة الكفرعن اعتقاده فقد كفر،ولولم يعتقد أولم يعلم أنهالفظة الكفر، ولكن أتی بها علی اختيار فقد كفر عند عامة العلماء لا يعذر بالجهل، وفی الخانية:وقال بعضهم :الجاهل إذا تكلم بكفر ولم يدر أنه كفر لا يكون كفراً ويعذر بالجهل، وفی الينابيع:قال أبوحنيفة ؓ:لا يكون الكفرکفراًحتی يعقد عليه القلب.(الفتاوی التتارخانية، كتاب أحكام المرتدين، الفصل إجراء كلمة الكفر،ج:7،ص:282)


فتویٰ نمبر : 5723/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں