بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

لڑکی کا نکاح کے بعد رخصتی سے پہلے اپنے شوہر سے فون پر باتیں کرنا


سوال

اگرایک لڑکی کا نکاح ہوا ہو اور رخصتی سے پہلے اپنے شوہر کے ساتھ موبائل فون پر باتیں کرتی ہو اور والدین منع کریں ، جب کہ شوہر کہتا ہے کہ باتیں کروگی ، تو ایسی صورت میں لڑکی والدین کی بات پر عمل کرے یا شوہر کی حالانکہ لڑکی کا نفقہ تو باپ پر لازم ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ نکاح کے بعد لڑکا اور لڑکی دونوں کی حیثیت ایک دوسرے کے لیے میاں اور بیوی کی ہو جاتی ہے ، چاہے رخصتی نہ بھی ہوئی ہو ، اس لیے موبائل فون پر رابطہ کرنے پر گناہ گار نہ ہوں گے ، البتہ بہتر یہ ہے کہ رخصتی سے پہلے لڑکا لڑکی ایسے تعلقات سے اجتناب کریں جو خاندان اور معاشرے میں معیوب سمجھے جاتے ہوں ، کیونکہ عموما رخصتی سے پہلے بے تکلف تعلقات سے بہت سے مفاسد پیدا ہوجاتے ہیں ، بلکہ بعض اوقات رشتہ ٹوٹنے تک نوبت پہنچ جاتی ہے جو کہ جانبین کے لیے معاشرے میں بڑی عیب کی بات ہیں ۔

صورت مسئولہ میں لڑکی کا نکاح کے بعد شوہر کے ساتھ موبائل فون پر باتیں کرنے میں گناہ نہیں ، تاہم اگر والدین منع کریں تو لڑکی کو چاہیے کہ والدین کی نصیحت پر عمل کر کے رخصتی سے قبل شوہر سے رابطہ نہ رکھے ، نیز والدین کو بھی چاہیے کہ اگر کوئی معقول عذر نہ ہو تو بلا وجہ رخصتی میں تاخیر نہ کریں ، بلکہ جلد رخصتی کا انتظام کر دیں تا کہ کسی قسم کا فتنہ یا فساد پیدا پونے سے پہلے ہی اس کا سد باب ہو جائے ۔

 

قال الله تعالی:﴿وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعۡبُدُوٓاْ إِلَّآ إِيَّاهُ وَبِٱلۡوَٰلِدَيۡنِ إِحۡسَٰنًاۚ إِمَّا يَبۡلُغَنَّ عِندَكَ ٱلۡكِبَرَ أَحَدُهُمَآ أَوۡ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَآ أُفّ وَلَا تَنۡهَرۡهُمَا﴾.(الإسراء،الآية:23)

قال الامام الرازي:"واعلم أن الإحسان إلى الوالدين هو أن يقوم بخدمتهما، وألا يرفع صوته عليهما، ولا يخشن في الكلام معهما، ويسعى في تحصيل مطالبهما والإنفاق عليهما بقدر القدرة من البر"( مفاتيح الغيب للامام الرازي، ج:10، ص:76)

قاعدة: درء المفاسد ‌أولى ‌من ‌جلب المصالح. ( الأشباه والنظائر، ‌‌القول في أنه هل الاعتبار بالحال أو بالمآل، ج:1، ص:105)

(‌هو) ‌عند ‌الفقهاء (عقد يفيد ملك المتعة) أي حل استمتاع الرجل من امرأة لم يمنع من نكاحها مانع شرعي. (الدرالمختار على صدر ردالمختار، كتاب النكاح ، ج:3، ص:3)


فتویٰ نمبر : 6823/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں