بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 25/10/2026 |
دارالافتاء
ائمہ مساجد ، مؤذنین،مدرسین كوكتنی چھٹیوں كا اختيار ہے
سوال
دینی خدمت انجام دینے والوں (ائمہ مساجد ، مؤذنین،مدرسین)کوشرعی لحاظ سے کتنی چھٹیاں کرنے کا حق ہے ؟اور اگر یہ حضرات چھٹی لے کر جائیں تو کمیٹی مکمل معاوضہ دے سکتی ہے یا نہیں؟ان حضرات کی کتنی چھٹیوں کے بعد معاوضہ میں سے کٹوتی کی جاسکتی ہے ؟
جواب
واضح رہے کہ ائمہ مساجد ، مؤذنین، اور مدرسین کی تعطیلات اور تنخواہوں کا دارومدار عرف اور معاہدہ پر ہے جہاں پر ائمہ مساجد ، مؤذنین،یامدرسین کے ساتھ یہ معاہدہ ہوچکا ہو کہ ان کو پورے سال کی تنخواہ ملے گی ،اور ماہانہ یا سالانہ اتنی چھٹیوں کا اختیار ہوگا تو وہاں پر چھٹیوں کے دنوں کی تنخواہ ان حضرات کا حق بنتا ہے اور اگر معاہدہ نہ ہوا ہو تو عرف کو مد نظر رکھ کر ہی فیصلہ کیا جاسکتا ہے ۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر ان حضرات کے ساتھ معاہدہ ہوچکا ہو اور معاہدہ کرتے ہوئے یہ بات طے ہوئی ہو کہ چھٹیوں کی تنخواہ نہیں دی جائےگی تو پھر یہ حضرات چھٹیوں کی تنخواہوں کا مستحق نہیں ہوں گے اور اگر معاہدہ میں یہ تصریح ہوئی ہو کہ چھٹیوں کی تنخواہ ملے گی یا کسی قسم کی تصریح نہ ہوئی ہو تو ائمہ مساجد ، مؤذنین، اور مدرسین عرف عام کے مطابق چھٹیا ں کرنے پر تنخواہوں کے مستحق ہوں گے۔نیزمعاہدہ کے تحت سالانہ یا ماہانہ جتنی چھٹیوں کا اختیار دیا ہو اس سے زیادہ چھٹیاں کرنے کی صورت میں تنخواہ سے کٹوتی کی جاسکتی ۔
ولو كان يبطل من الشهر يوما أو يومين لا يرعاها حوسب بذلك من أجره سواء كان من مرض أو بطالة؛ لأنه يستحق الأجر بتسليم منافعه، وذلك ينعدم في مدة البطالة سواء كان بعذر أو بغير عذر.( المبسوط، باب إجارة الراعي،ج:15،ص:162)
وهل يأخذ أيام البطالة كعيد ورمضان لم أره وينبغي إلحاقه ببطالة القاضي. واختلفوا فيها والأصح أنه يأخذ...فينبغي أن يكون كذلك في المدرس؛ لأن يوم البطالة للاستراحة، وفي الحقيقة تكون للمطالعة والتحرير عند ذوي الهمة، ولكن تعارف الفقهاء في زماننا بطالة طويلة أدت إلى أن صار الغالب البطالة، وأيام التدريس قليلة اهـ ورده البيري بما في القنية إن كان الواقف قدر للدرس لكل يوم مبلغا فلم يدرس يوم الجمعة أو الثلاثاء لا يحل له أن يأخذ ويصرف أجر هذين اليومين إلى مصارف المدرسة من المرمة وغيرها بخلاف ما إذا لم يقدر لكل يوم مبلغا، فإنه يحل له الأخذ وإن لم يدرس فيهما للعرف .( رد المحتار، على الدر المختار، مطلب في قطع الجهات لأجل العمارة،ج:4،ص:372)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں