بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

78کلومیٹر کی مسافت میں قصر کا حکم


سوال

میری  پشاور میں ملازمت  ہے اور روزانہ آتا جاتا ہوں اور ہمارے علاقے سے پشاور  کا فاصلہ 78کلومیٹربنتا ہے تو میں اپنے دفتر کی مسجد میں امام کے ساتھ یا  اکیلے نماز پڑھتے ہوئے پوری نماز پڑھوں گا یا قصر کروں گا،نیز سنت موکدہ ادا کرنے ہوں گے یا نہیں کیونکہ میرے پاس دفتر میں سنت پڑھنے کا  وقت ہوتا ہے۔

جواب

واضح رہے کہ جس مسافت پر آدمی مسافر بنتا ہے اس کی مقدار   78 کلومیٹر ہے ، جو شخص اتنی مسافت کے ارادے سے سفر کے لیے نکلے تو یہ شخص شرعاً مسافر شمار ہوگا اور اس پر قصر واجب ہوگی۔

صورت مسئولہ میں اگر سائل کے گاؤں/شہر اور پشاور تک 78 کلومیٹر کی مسافت بنتی ہو تو شرعاً مسافر شمار ہوگا،لہذا اکیلے یامسافر امام کے پیچھے  نماز میں قصر واجب ہوگی تاہم اگر کسی مقیم امام کی اقتداکرے تو اس کی اقتدامیں پوری نماز پڑھنا واجب ہوگا۔سفر میں فجر کی سنت نہیں چھوڑنی  چاہیے جب کہ باقی سنتوں کے بارے میں تفصیل یہ  ہے کہ اگر مسافر کا سفر جاری ہے تو نہ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں  اوراگرکسی جگہ ٹھہرا ہو تو پھر پڑھنا افضل ہے تاہم چھوڑنے پر گناہ گار نہیں ہوگا۔لہذا سائل کو جب دفتر میں سنت پڑھنے کا وقت ملتا ہے تو اس کو چاہیے کہ سنت پڑھ لیا کرے۔

 

وكان ابن عمر وابن عباس رضي الله عنهم يقصران ‌ويفطران ‌في ‌أربعة ‌برد وهي ستة عشر فرسخا.(صحيح البخاري،أبواب تقصير الصلاة، باب في كم يقصر الصلاة، ج: 2، ص: 43)

من فارق بيوت موضع هو فيه من مصر أو قرية ناويا الذهاب إلى موضع بينه وبين ذلك الموضع المسافة المذكورة صار مسافرا.(غنية المستملي في شرح منية المصلي،فصل في صلوة المسافر،ص:462)

وقيد بالفرض؛ لأنه لا قصر في الوتر ‌والسنن ‌واختلفوا ‌في ‌ترك ‌السنن في السفر فقيل: الأفضل هو الترك ترخيصا وقيل الفعل تقربا وقال الهندواني: الفعل حال النزول والترك حال السير، وقيل يصلي سنة الفجر خاصة، وقيل سنة المغرب أيضا، وفي التجنيس والمختار أنه إن كان حال أمن وقرار يأتي بها؛ لأنها شرعت مكملات والمسافر إليه محتاج، وإن كان حال خوف لا يأتي بها؛ لأنه ترك بعذر.(البحرالرائق،باب صلوة المسافر،ج:2،ص:141)


فتویٰ نمبر : 9877/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں