بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

ایڈوانس رقم کے بدلے خاص کھیت کا گندم خریدنا


سوال

میں نےایک شخص سےگندم فی بوری 6500 روپےکےحساب سےخریدا ہے،جب کہ گندم ابھی تک موجودنہیں۔ معاملہ کچھ یوں طےپایاگیاہےکہ میں نے فروخت کنندہ کو کہا ہے کہ فلاں کھیت سے جتنا گندم حاصل ہوجائےاس کا فی بوری 6500 روپے میں مجھ پر فروخت کردو اور پیسے ابھی سے ایڈوانس دے دیئے۔ کیا ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب

خرید وفروخت میں جب رقم ایڈوانس دے کر مبیع(فروخت کی جانے والی چیز) بعد میں حوالہ کیےجانےکا معاملہ ہو تو اس کو فقہا کی اصطلاح میں بیع سلم کہا جاتا ہے۔جس کے لیےدرجہ ذیل شرائط کا ہونا ضروری ہیں :

1۔مبیع کی جنس معلوم ہو، جیسے:گندم ،جو وغیرہ۔

2۔نوع معلوم ہو، جیسے:بارانی گندم یا سیراب شدہ زمین کا گندم وغیرہ۔

3۔صفت معلوم ہو،جیسے:عمدہ یا کمزور۔

4۔مقدار معلوم ہو۔

5۔رأس المال(پیسے) متعین ہو۔

6- رأس المال پر مجلس عقد ہی میں قبضہ ہوا ہو۔

7۔مبیع حوالہ کرنے کی مدت متعین ہو۔

8۔مبیع کی حوالگی کا مقام متعین ہو۔

9۔کسی معین چیز کو مبیع نہ بنایا جائے۔مثلا مخصوص کھیت کافصل یا مخصوص درخت کا پھل۔

               صورت مسئولہ میں بیان کردہ معاملہ عقد سلم کا ہے، لیکن چونکہ اس میں خاص کھیت کے گندم کو مبیع بنایا گیا ہے اور اس کی مقدار بھی معلوم نہیں ہے، اس لئے یہ عقد جائزنہیں۔ تاہم اگر خاص کھیت کے گندم کی بجائےمطلق گندم کا عقد کیا جائے اور مقدار بھی متعین کی جائے، تو پھر یہ عقد، بیع سلم کے زمرے میں داخل ہوکر جائز ہو گا۔

 

باب السلم (هو) لغة كالسلف وزنا ومعنى وشرعا (بيع آجل) وهو المسلم فيه (بعاجل) وهو رأس المال (وركنه ركن البيع). (الدر المختار على صدر رد المحتار، باب السلم، ج: 7، ص: 454، دارالكتب العلمية، بيروت)

وشرائطه: تسمية الجنس والنوع والوصف والأجل والقدر ومكان الإيفاء إن كان له حمل ومؤونة، وقدر رأس المال في المكيل والموزون والمعدود، وقبض رأس المال قبل المفارقة.( الإختيار لتعليل المختار، كتاب البيوع، باب السلم، ج:2، ص:34، دارالمعرفة، بيروت)

قوله : وبرّ قرية وثمرة نخلة متعيّنتين؛ أي لا يجوزُ السَّلَمُ فيهما ؛ لاحتمال أن يعتبر بهما آفة فينقطعا عن أيدي الناس، فلا يقدر على تسليمهما ، ولو أسلم في بر ولاية يجوز؛ لأنَّ وصول الآفة لبرِّ كل الولاية نادر، وهذا إذا كانت النسبة إلى قريةٍ ليؤدي من بُرها.(عمدة الرعاية على شرح الوقاية، باب السلم، ج: 5، ص: 256، دارالكتب العلمية، بيروت)


فتویٰ نمبر : 3462/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں