بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

لقطہ کو فروخت کر کے اپنا حق وصول کرنا


سوال

کسی شخص نے دکاندار کوموبائل ریپئرنگ کےلیے دیا اور دکاندار نے موبائل کو ریپئر کردیا لیکن مالک   اس کو وصول کرنے نہیں آرہا  اور نہ ہی دکاندار کو اس موبائل کے مالک کا علم ہےاور مالک نے ریپئر کرنے کی اجرت بھی دکاندار کو نہیں دی تو کیا دکاندار مذکورہ موبائل کو فروخت کر کے اپنی اجرت وصول کرسکتا ہے؟

جواب

كسی  شخص  کواگركو ئی ایسی  چیز مل جائے جس کا مالک معلوم نہ  ہوتو یہ لقطہ  کے زمرے میں داخل ہے، اور لقطہ کا حکم یہ ہے کہ لقطہ کی نوعیت کو دیکھ کراس کی تشہیر کی جائے اور جب اتنا وقت گزر جائے کہ غالب گمان ہوجائے کہ اب مالک اس کی تلاش نہيں کرے گاتوایسی صورت  میں اگر وہ خود فقیر ہے تو وہ اس کو خود استعمال کرسکتا ہے،لیکن اگر وہ مالدار ہے تو پھراس کو صدقہ کردے۔

صورت مسئولہ کے مطابق موبائل ریپئرنگ کرنے والے کو چاہیے کہ وہ مذکورہ موبائل کو ہر ممکنہ طریقہ اختیار کر کےمالک تک پہنچانے کی کوشش کرے اور اس سے اپنا حق وصول کرے ،لیکن اگر اس کے بعد بھی مالک نہ ملے اور اس کا غالب گمان  یہ ہو کہ مالک  اب اس  کو لینے نہیں آئے گا تو ایسی صورت میں وہ مذکورہ موبائل کو فروخت کرکے ریپئرنگ کا خرچہ وصول کرسکتا ہے جبکہ زائد پیسوں کو فقرا میں صدقہ کردے۔

 

 [اللقطة] مال يوجد ولا يعرف مالكه، وليس بمباح كمال الحربي.(الدر المختار على صدر رد المحتار، كتاب اللقطة،ج:6،ص:432)

(وعرف) أي نادى عليها حيث وجدها، وفي المجامع(إلى أن علم أن صاحبها لا يطلبها...)قال ابن عابدين رحمه الله:قوله:(إلى أن علم أن صاحبها لا يطلبها)لم يجعل للتعريف مدة اتباعا للسرخسي، فانه بنى الحكم على غالب الرأي، فيعرف القليل والكثير إلى أن يغلب على رأيه أن صاحبه لا يطلبه.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب اللقطة،ج:6،ص:432)

‌إن ‌كان ‌الملتقط ‌محتاجا فله أن يصرف اللقطة إلى نفسه بعد التعريف، كذا في المحيط، وإن كان الملتقط غنيا لا يصرفها إلى نفسه بل يتصدق على أجنبي أو أبويه أو ولده أو زوجته إذا كانوا فقراء.(الفتاوى الهندية، كتاب اللقطة،ج:2،ص:300)

قال الحموي في شرح الكنز نقلا عن العلامة المقدسي عن جده الأشقر عن شرح القدوري للأخصب: إن عدم جواز الأخذ من خلاف الجنس كان في زمانهم لمطاوعتهم في الحقوق، والفتوى اليوم على جواز الأخذ عند القدرة من أي مال كان لا سيما في ديارنا لمداومتهم العقوق.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الحجر،ج:6،ص:150)


فتویٰ نمبر : 5670/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں