بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

چھ دنوں میں آسمان وزمین بنانے کی حکمت


سوال

 جب اللہ تعالی کن فیکون ذات ہے تو چھ دنوں میں آسمان اور زمین کو بنانے میں کیا حکمت تھی؟

جواب

         مفسرین کرامؒ نے آسمان اور زمین کے چھ دنوں میں تخلیق کے بارے میں مختلف حکمتیں بیان کی ہیں، جن میں سے دو وجہیں درج ذیل ہیں:

  1. تفسیر کبیر میں امام رازیؒ نے یہ حکمت بیان کی ہے کہ اگر اللہ تعالی ایک ہی لمحے میں آسمان اور زمین کی تخلیق فرماتے تو کسی کے ذہن میں یہ شبہ پیدا ہوسکتا تھا کہ یہ اتفاقی طور پر وجود میں آگئے ہیں، لیکن جب ان کو مصلحت اور حکمت کے عین مطابق یکے بعد دیگرے بنایا گیا، تو یہ اس بات پر قوی دلیل ہے کہ آسمان و زمین کی تخلیق کسی ایسی ذات کی کاریگری ہےجو حکمت والا، قدرت والا، علم والا اور مہربان ذات ہے۔
  2. تفسیر مدارک میں یہ حکمت بیان کی گئی ہے کہ اللہ تعالی نے ان کو چھ دنوں میں بنایا جب کہ وہ ایک ہی لمحے میں بنانے پربھی قادر تھا تاکہ مخلوق کو تمام کاموں میں آہستگی، تسلسل، ثابت قدمی اور صبر کی تعلیم دی جائے۔

 

أن الشيء إذا أحدث دفعة واحدة ثم انقطع طريق الإحداث فلعله يخطر ببال بعضهم أن ذاك إنما وقع على سبيل الاتفاق أما إذا حدثت الأشياء على التعاقب والتواصل مع كونها مطابقة للمصلحة والحكمة كان ذلك أقوى في الدلالة على كونها واقعة بإحداث محدث قديم حكيم وقادر عليم رحيم. (تفسير الرازي، ج:14، ص:257، دار إحياء التراث العربي، بيروت)

وإنما خلقها في ‌ستة ‌أيام وهو يقدر على أن يخلقها في لحظة تعليما لخلقه الرفق والتثبت. (مدارك التنزيل و حقائق التاويل[تفسير النسفي]، ج:2، ص:545، دار الكلم الطيب، بيروت)


فتویٰ نمبر : 5681/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں