بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/08/2026

دارالافتاء

 

چلتی ہوئی موٹر کار میں نماز پڑھنا


سوال

میں لندن میں  ایک ادارے میں ڈیوٹی کے لیے جاتی ہوں ۔ چونکہ ظہر کا وقت گھر میں ہوجاتا ہے ، اس وجہ سے ظہر کی نماز کے بعد روانہ ہوجاتی ہوں۔ عصر کے بعد چھٹی ہوجاتی ہے ۔ مغرب کا وقت راستے میں آجاتا ہے۔ واپسی پر  والد کے ساتھ اپنی کار میں آتی ہوں ، لیٹ ہونے کی وجہ سے مغرب کا وقت نکل جانے کا خدشہ ہوتا ہے۔ اس وجہ سے چلتے ہوئے اپنی کار میں مغرب کی نماز ادا کرلیتی ہوں ، کیا اس سے میری نماز ادا ہوجائے گی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ  فرض نماز کے  صحیح ہونے کےلیےقیام ، رکوع ،سجدہ اور قبلہ رو ہونا  ضروری ہے۔چونکہ  چلتی ہوئی موٹرکار میں  قیام، رکوع وسجود وغیرہ کی رعایت نہیں رکھی جاسکتی اور قبلہ رو ہونا بھی بعض  مرتبہ دشوار ہوتا ہے،اس لیے موٹر کار میں  فرض نماز پڑھنا  جائز نہیں۔

لہذا سائلہ کو چاہیے کہ فرض  پڑھ کر روانہ ہو یا فرض نماز کےلیے کسی مناسب جگہ گاڑی رکوا کر اتر کر نماز ادا کرے   اور رکوانے میں  اگر کوئی رکاوٹ  ہو   تو اپنی جگہ پہنچ کر نماز پڑھے ،اگر وقت باقی ہو تو  ادا پڑھ لے ورنہ قضاء پڑ ھ لے ۔لیکن  موٹر کار میں قیام ،رکوع،سجدہ اور قبلہ کی رعایت کے بغیر پڑھی گئی فرض نماز درست نہیں ہوتی۔ اس لیے اگر اس طرح کوئی نماز ادا کی ہو تو اس کی قضاء پڑھ لے۔

 

"(ومنها القيام)… وملحق به كنذر وسنة فجر في الأصح (لقادر عليه)".

"(قوله القادر عليه) فلو عجز عنه حقيقة وهو ظاهر أو حكما كما لو حصل له به ألم شديد أو خاف زيادة المرض…".(الدر المختار مع رد المحتار،كتاب الصلاة،مطلب قد يطلق الفرض على ما يقابل الركن وعلى ما ليس بركن ولا شرط،ج:1،ص:444)

"‌الصلاة ‌في ‌السفينة إذا صلى فيها قاعدا بركوع وسجود أن يجوز إذا كان عاجزا عن القيام والسفينة جارية…".(بدائع الصنائع، كتاب الصلاة،فصل فى اركان الصلاة،ج:1،ص:109)

" أن ‌الفريضة ‌لا ‌تجوز ‌على ‌الدابة ‌فلا ‌يصلي ‌المسافر ‌المكتوبة ‌على ‌الدابة ‌إلا ‌من ‌عذر كخوف اللص والسبع وطن المكان وكون الدابة جموحا وكون المسافر شيخا كبيرا لا يجد من يركبه".(العنايه شرح الهدايه، كتاب الصلاة،فصل فى القراءة،ج:1،ص:463)


فتویٰ نمبر : 9871/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں