بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

" بیوی چھوڑ چکا ہوں" کے الفاظ سے طلاق کا حکم


سوال

رائج الوقت جو فوتگیوں میں کمیٹیاں ہوتی ہیں جو ورثا کے کھانے پینے کا انتظام کرتی ہے جب اس کمیٹی میں فوتگی ہوئی اور کمیٹی والے پیسے مانگنے آگئے تو لڑکے نے کہا کہ میں اپنے والد کے پیسے دوں گا اپنے پیسے نہیں دوں گا، اس لئے کہ میں بیوی چھوڑ چکا ہوں اس بات پر کمیٹی والے 2 گواہ بھی موجود ہیں، حالانکہ اس سے قبل شوہر نے کوئی طلاق نہیں دی ہے۔ اور نہ ہی اس جملہ کہنے سے طلاق کی نیت تھی۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا اس طرح کہنے سے بیوی پر طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟ نیز ایسی صورت میں لڑکی دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے یا نہیں؟

جواب

کوئی شخص اگر طلاق کی جھوٹی خبر دے تو اس جھوٹی خبر کے دینے سے قضاءً طلاق واقع ہو جاتی ہے ۔ تاہم اللہ اور اس کا معاملہ الگ ہے۔اگر واقعی طلاق نہ دی ہو تو طلاق واقع نہ ہوگی ۔

صورت مسئولہ کے مطابق  اگر لڑکے نے یہ الفاظ کہے ہوں "میں اپنے والد کے پیسے دوں گا  اپنے پیسے نہیں دوں گا ،اس لیے میں بیوی چھوڑ چکا ہوں" اور اس شخص نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی تھی اورکمیٹی والے سے جھوٹ کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے تو اس جھوٹی خبر سے اس کی بیوی پرقضاءً طلاق واقع ہوگی یعنی بیوی اگرعدالت میں قاضی کے سامنے خاوند کےاس اقرارکو ثابت کرے تو عدالت ایک طلا ق کے واقع ہونے کا  فیصلہ کرے گی،البتہ اگرمعاملہ عدالت میں نہ جائے تواگرخاوند اپنی بات میں سچا ہو تو دیانۃًکوئی طلاق واقع نہ ہوگی،لہذا وہ بیوی کو رکھ سکتا ہے اور اس کی بیوی دوسری جگہ نکاح نہیں کر سکتی۔

 

لو أقر بالطلاق كاذباً، أو هازلا وقع قضاء لا ديانة. (رد المحتار على الدرالمختار، كتاب الطلاق، مطلب في الإكراه على التوكيل بالطلاق، ج:4، ص:440)    

لو أراد به الخبر عن الماضي كذبأ لا يقع ديانة، وإن أشهد قبل ذلك لا يقع قضاءً أيضاً. (رد المحتار على الدرالمختار، كتاب الطلاق، مطلب في المسائل التي تصح مع الإكراه، ج:4، ص:443) 

 وقيدنا بالإنشاء لأنه لو أكره على أن يقر بالطلاق فأقر لا يقع كما لو أقر بالطلاق ‌هازلا ‌أو ‌كاذبا كذا في الخانية من الإكراه ومراده بعدم الوقوع في المشبه به عدمه ديانة لما في فتح القدير ولو أقر بالطلاق وهو كاذب وقع في القضاء اهـ.وصرح في البزازية بأن له في الديانة إمساكها إذا قال أردت به الخبر عن الماضي كذبا، وإن لم يرد به الخبر عن الماضي أو أراد به الكذب أو الهزل وقع قضاء وديانة.(البحر الرائق شرح كنز الدقائق،كتاب الطلاق،ج:3،ص:264)


فتویٰ نمبر : 6826/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں