بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

سودی بینک کے لیے دکان کرایہ پر دینا


سوال

 بازار کے  بالکل سنٹر میں کچھ دکانیں  ہیں  ، بینک والے کہتے ہیں کہ  آپ   یہ دکانیں  ہمیں  کرایہ پر دیں ، کرایہ کے علاوہ  ہم آپ کے دو لوگ اس میں نوکری  پر لگائیں گے۔ کیا ان کو جگہ  کرایہ پر دینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

شريعت نے مالک کو اپنی مملوکہ چیز اجارے پر دینے کا حق دے رکھا ہے ،لیکن اس شرط کے ساتھ کہ اس سے شرعی حدود پامال نہ ہوں۔

موجودہ دور میں  جو سودی بینک ہیں   ان کو دکان یا جگہ    کرایہ پر دینا جائز نہیں ۔اس لیے کہ یہ گناہ کے کام میں تعاون کے زمرے میں آتا ہے، چنانچہ  اس سے احتراز  لازم  ہے البتہ جو بینک اسلامی اصولوں کےمطابق،اورمستند علمائےکرام کی نگرانی میں  کام کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ کرایہ داری کا معاملہ کرنے میں کوئی حرج نہیں  ۔

 

قال الله تعالى:وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ.(سورةالمائدة،الآية:2)

"وقوله تعالى: ‌وتعاونوا ‌على ‌البر ‌والتقوى ‌ولا ‌تعاونوا ‌على ‌الإثم ‌والعدوان ‌يأمر ‌تعالى ‌عباده ‌المؤمنين ‌بالمعاونة ‌على ‌فعل ‌الخيرات ‌وهو ‌البر، وترك المنكرات وهو التقوى وينهاهم عن التناصر على الباطل والتعاون على المآثم والمحارم،".(تفسیر ابن کثیر،سورةالمائدة،الآية:2،ج:3،ص:10)

‌" قال - ‌رحمه ‌الله -: (‌وإجارة ‌بيت ‌ليتخذه ‌بيت ‌نار ‌أو ‌بيعة ‌أو ‌كنيسة ‌أو ‌يباع ‌فيه ‌خمر ‌بالسواد) ‌أي ‌جاز ‌إجارة ‌البيت ‌ليتخذه ‌معبدا ‌للكفار والمراد ببيت النار معبد المجوس، وهذا عند أبي حنيفة - رحمه الله -، وقالا لا ينبغي أن يكريه لشيء من ذلك؛ لأنه إعانة على المعصية، …".(تبیین الحقائق،کتاب الکراهيه،فصل فى البيع،ج:6،ص:29)

"(‌لا ‌تصح ‌الإجارة ‌لعسب التيس) وهو نزوه على الإناث (و) لا (لأجل المعاصي مثل الغناء والنوح والملاهي)

(قوله ‌لا ‌تصح ‌الإجارة ‌لعسب التيس) ؛ لأنه عمل لا يقدر عليه وهو الإحبال".(الدر الختار مع رد الحتار،كتاب الاجارة، مطلب في الاستئجار على الطاعات،ج:6،ص:55)


فتویٰ نمبر : 3446/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں