بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

State Bankكے منیجر کے ہاں دعوت كھانا


سوال

میرے ایک دوست   (State Bank) میں منیجر تعینات ہوئے  ہیں ۔ ہماری پارٹی کے   دوست باری باری  ہر ہفتے کے آخر میں دعوت کرتے ہیں ۔ اب اس دوست کی باری بھی آتی ہے ۔ تو کیا اس کی دعوت کھانا درست ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے بعض شعبے ایسے ہیں جن کا تعلق براہ راست  سودی   لین دین سے ہو تا ہے ، ان میں نوکری کرنا اور تنخواہ لینا جائز نہیں ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ :"سود کھانے والے ،کھلانے والے  اور سودی معاملہ کو لکھنے والے اور اس پر گواہ بننے والے سب پر اللہ تعالی کی لعنت ہے "۔   جب کہ  بعض شعبوں کا تعلق    براہ راست سودی لین دین سے  نہیں ہوتا  ہے  ،چنانچہ ایسے شعبوں میں نوکری کرنے  اور تنخواہ لینے کی گنجائش ہے ۔   

صورت مسئولہ کے مطابق اگر اس  شخص کی ملازمت اسٹیٹ بینک کے ایسے   شعبے  میں ہو  جس  کا تعلق براہ راست  سودی   لین دین سے ہو  تا ہے تو  ایسی صورت میں  اس کو   ملنے والی تنخواہ  حرام  ہوگی  ، چنانچہ اس  کی دعوت قبول کرنا جائز نہیں ،البتہ اگر  اس  کا کوئی دوسرا  حلال  ذریعہ آمدن کا ہو   یا  کسی سے قرض لے کر  دعوت  کرے  تو پھر اس کی  دعوت قبول کرنے  کی گنجائش ہے۔

 

"عن جابر، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌آكل ‌الربا، ‌ومؤكله، ‌وكاتبه، ‌وشاهديه»،وقال: «هم سواء»".(صحيح مسلم،كتاب المساقاة،باب لعن آكل الربا ومؤكله،ج:3،ص:1219،الرقم:1598)

‌" آكل الربا وكاسب الحرام أهدى إليه أو أضافه وغالب ماله حرام لا يقبل، ولا ‌يأكل ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال ورثه أو استقرضه، وإن كان غالب ماله حلالا لا بأس بقبول هديته ‌والأكل منها، كذا في الملتقط".(الفتاوى الهندية،كتاب الكراهيه،الباب الثانى عشر،ج:5،ص:343)


فتویٰ نمبر : 5662/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں