بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

منگنی کے بعد دعوٰی رضاعت


سوال

ایک لڑکی کی منگنی ایک لڑکے سےايك سال  پہلے  ہوئی ۔  لڑکی کی والدہ نے کہا کہ مجھے تو پتہ نہیں تھا ، میں نے اس لڑکے کو دودھ پلایا تھا ۔ اس لڑکی کا والد دل کا مریض تھا ۔ اس لیے اس سے بات چھپائی تھی ، اب جب کہ وہ  ٹھیک ہوگئے اور اس کو  واقعہ بتایا گیا۔ تو وہ انکاری ہے اور کہتا ہے کہ  میری بیوی کو یہ رشتہ پسند نہیں   اور اس وجہ سے ایسی باتیں کررہی ہے ۔ اب اس مسئلہ کا  شرعی حل کیا  ہے ۔ رشتہ باقی رکھا جا سکتا ہے یا ختم کرنا ہوگا؟

جواب

شرعی اعتبار سے رضاعت کا ثبوت دودھ  پینے والے کے اقرار یا دو عادل مردوں  یا ایک عادل مرد اور دو عادل عورتوں کی گواہی سے ہوتا ہے، صرف  ایک عورت کے قول کا اعتبار نہیں ۔ ہاں اگر اس کے قول پر سچائی کا اعتماد کیا جاسکتا ہو اور اس میں جھوٹ کا شائبہ نہ ہو تو شادی سے پہلے اس طرح نکاح سے احتراز  کرنا چاہیے۔

صورت مسئولہ کے مطابق نکاح سے پہلے رضاعت کی خبر دینے والی عورت (والدہ)کی خبر پر  اگرصداقت کا گمان پیدا ہوتا ہو تو  بہتر  یہ ہے کہ اس نکاح سے اجتناب کیا جائے ،ورنہ گواہ نہ ہونے کی صورت میں نکاح کی گنجائش ہے ۔

 

‌" الرضاع ‌يظهر بأحد أمرين أحدهما الإقرار والثاني البينة كذا في البدائع.ولا يقبل في الرضاع إلا شهادة رجلين أو رجل وامرأتين عدول كذا في المحيط…ولو تزوج امرأة فقالت امرأة أرضعتكما فهو على أربعة أوجه إن صدقاها فسد النكاح ولا مهر لها إن لم يدخل بها وإن كذباها فالنكاح بحاله …".(الفتاوى الهنديه،كتاب الرضاع،ج:1،ص:347)


فتویٰ نمبر : 6820/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں