بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/10/2026

دارالافتاء

 

مزارعت میں زمین ایک کی،غلہ دوسرے کا اور عمل تیسرے کا


سوال

ایک کی زمین ہو،پانی، بیج اور ٹریکٹر دوسرے کا اور عمل تیسرے شخص کا ہو۔نیز پیداوار میں سے ساتواں حصہ زمین والے کا ہواور باقی چھ حصوں میں سے پانچ حصےپانی،بیج اور ٹریکٹر والے  کے ہوں اور ایک حصہ عامل کو ملتا ہو،تو کیا یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ عقد مزارعت میں اگر دو سے زیادہ بندے اس طور پر شریک ہوجائیں کہ مثلاً: ایک کی طرف سے عمل،دوسرے کی طرف سے بیج،تیسرے کی طرف سے زمین اور چوتھے کی طرف سے آلہ کاشت ہو تو یہ شرعا جائز نہیں، کیونکہ عقد مزارعت میں  طرفین میں سے ہر ایک کی طرف سے زمین یا عمل  میں سے کسی ایک کا ہونا ضروری ہے ، چنانچہ اگر کسی کی طرف سے دونوں ہوں یا نہ زمین ہو اور نہ ہی عمل ، بلکہ صرف تخم یا آلہ کاشت ہو تو ایسی صورت میں عقد مزارعت فاسد ہوجاتا ہے۔

 صورت مسئولہ کے مطابق اگر ایک شخص کی طرف سے زمین ہو، دوسرے کی طرف سے پانی،بیج اور ٹریکٹر ہو جبکہ تیسرے کی طرف سے عمل ہو تو یہ شرعا جائز نہیں،لہذا اس سے اجتناب لازم ہے۔

 

واعلم أن مسائل المزارعة في الجواز والفساد مبنية على أصل وهو أنها تنعقد إجارة وتتم شركة، وإنما تنعقد إجارة على منفعة الأرض أو العامل، ولا تجوز على منفعة غيرهما من بقر وبذر.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب المزارعة،ج:6،ص:278)

لو ‌اشترك ‌ثلاثة أو أربعة ومن البعض البقر وحده أو البذر وحده فسدت وقد عد في الفصل الثلاثين من جامع الفصولين من الصور الفاسدة ما لو كان البذر لواحد والأرض لثان والبقر لثالث والعمل لرابع أو البذر والبقر لواحد والأرض لثان والعمل لثالث أو البذر والأرض لواحد والبقر لثان والعمل لثالث وتمام الكلام فيه فراجعه، ووجه ذلك بناء على ما مر من الضابط أنه إذا كان البذر وحده أو البقر وحده أو كل منهما من أحدهما والباقي من آخر لا يجوز فكذا إذا كان الباقي من اثنين أو ثلاثة.(العقود الدرية،كتاب المزارعة،ج:2،ص:185)


فتویٰ نمبر : 3473/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں