بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

قنوت نازلہ پڑھنے کا حکم


سوال

 آج کل فلسطینی مسلمان مشکلات میں گھیرے ہوئے ہیں۔ تو ان حالات میں قنوت نازلہ پڑھنا کیسا ہے؟ یعنی قنوت نازلہ اب بھی پڑھی جاسکتی ہے یا اب منسوخ ہوچکی ہے؟

جواب

جب کبھی مسلمانوں کو سخت مشکلات، خوف یا شدید حادثے کا سامنا ہو تو ایسے حالات میں امام کے لیے فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھنا جائز ہے، نیز نصوص کی روشنی میں قنوت نازلہ اب بھی مشروع ہے، اس پر کوئی نسخ وارد نہیں ہوئی ہے۔

لہذا آج کل کے حالات کے تناظر میں فلسطینی مسلمان بھائیوں کے مشکلات و مصائب میں آسانی کے لیے قنوت نازلہ پڑھنا جائز ہے ۔

 

إنما لا يقنت عندنا في الفجر من غير بلية فإن وقعت فتنة أو بلية فلا بأس به فعله رسول الله صلى الله عليه وسلم أي بعد الركوع. (مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح،ص: 140، المكتبة العصرية)

فتكون شرعيته: أي شرعية القنوت في النوازل مستمرة، وهو محمل قنوت من قنت من الصحابة بعد وفاته عليه الصلاة والسلام، وهو مذهبنا وعليه الجمهور، وقال الحافظ أبو جعفر الطحاوي: إنما لا يقنت عندنا في صلاة الفجر من غير بلية، فإن وقعت فتنة أو بلية فلا بأس به، فعله رسول الله صلى الله عليه وسلم... إلخ. (رد المحتار على الدر المختار، ج:2، ص:11، شركة مكتبة و مطبعة مصطفى البابي الحلبي وأولاده، مصر)

وأولى ما يحمل عليه عندنا أن معناه لم يزل رسول الله ﷺ قانتا في الفجر عند النوازل حتى فارق الدنيا، ومراده بذلك أن قنوت النوازل لم ينسخ بل هو مشروع إذا نزل بالمسلمين نازلة أن يقنت الإمام في الفجر. (إعلاء السنن، ج: 3، ص: 99، دار الكتب العلمية، بيروت)


فتویٰ نمبر : 9869/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں