بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

کسی ایک بیٹے کو کچھ زمین ہبہ کرنا


سوال

مجھے والد صاحب نے اپنی حیات میں ایک زمین دی تھی اور کہا تھا کہ زمین تمہاری ہے اس میں میرے باقی اولاد کا کوئی حق نہیں ہوگا چنانچہ وہ زمین اس کی زندگی کے اخر تک تین چار سال تک میرے قبضے میں تھی اور میں اس میں کھیتی باڑی کرتا رہا پھر میرے والد صاحب وفات پا گئے اس کی وفات کے بعد بھی   کئی سالوں تک میرے قبضے میں ر ہی اور میں اس میں کھیتی باڑی کرتا رہا   اب  کیا  شرعا اس میں میرے دوسرے بہن بھائیوں کا  حق میراث بنتا ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی  شخص حالت صحت میں  ہو ش وحواس کے ساتھ اپنی مملوکہ جائیداد یا اس کا کچھ حصہ کسی کو ملکیتاً دے دے تو ایسا معاملہ  ہبہ کہلاتا ہے ،جو قبضہ کے ساتھ تام ہوجا تا ہے ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر واقعی سائل کو  والد صاحب نے ایک زمین اپنی زندگی میں دی تھی اور سائل نےاس پر قبضہ بھی کیا  تھا تو یہ اس کی ملکیت ہوگی  ،اس میں  دوسرے  ورثا کا حق نہیں بنتا ،تاہم اگر والد صاحب نے زمین صرف کھیتی باڈی کے لیےدی تھی ،ملکیتاً نہیں دی تھی تو پھرشرعا اس زمین میں سب ورثاء  کا حق ہوگا۔

 

‌ولا ‌يتم ‌حكم ‌الهبة إلا مقبوضة ويستوي فيه الأجنبي والولد إذا كان بالغا.(الفتاوى الهندية،كتاب الهبة،الباب الثانى فيما يجوز من الهبة وما يجوز،ج:4،ص:377)

التبرع لايتم إلا بالقبض،فإذا وهب أحد لأخر شيئا،لايتم هبته إلا بقبضه.(شرح المجلة لسليم رستم باز،المادة:57،ص:42)


فتویٰ نمبر : 5665/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں