بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

بے وضو کی حالت میں کفریہ الفاظ پڑھنا


سوال

وضو کی حالت میں یا بے وضو کفر یہ الفاظ ادا کرنے کا کیا حکم ہے ؟کیوں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جس طرح کوئی شخص اسلام لانے کا ارادہ کرتا ہے  تو وہ غسل کر کے پاک ہو جاتا ہے اسی طرح کفریہ الفاظ کے لیے بے وضو ہو نا ضروری ہے۔

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی عاقل بالغ انسان اپنے ارادےاور  اختیار سے کلماتِ  کفریہ  ادا کر لے تو وہ شخص دائرہ  اسلام سے خارج ہوجاتا ہے، خواہ وہ کلمات غصے میں کہے ہوں یا مذاق میں کہے ہوں۔اور چاہے وہ  وضو کی حالت میں کہے ہوں  یا بے وضو کی حالت میں ۔

 

والحاصل: أن من تكلم بكلمة للكفر هازلاً أو لاعبًا كفر عند الكل ولا اعتبار باعتقاده، كما صرح به في الخانية. ومن تكلم بها مخطئًا أو مكرهًا لايكفر عند الكل، ومن تكلم بها عامدًا عالمًا كفر عند الكل، ومن تكلم بها اختيارًا جاهلاً بأنها كفر ففيه اختلاف. (البحر الرائق شرح كنز الدقائق،كتاب السير،باب احكام المرتدين،ج:5،ص:135)


فتویٰ نمبر : 5672/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں