بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

نماز وں کا فدیہ متعدد مساکین میں تقسیم کرنا


سوال

نماز کا فدیہ ایک مسکین کے علاوہ متعدد مساکین پر تقسیم کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

 اگر کوئی شخص وفات ہو جائے اور اس کے ذمہ قضانمازیں رہ جا ئیں اور ورثا ان قضا  نمازوں کا فدیہ ادا کرنا چا ہیں تو تمام قضا شدہ نمازوں  کا فد یہ ایک مسکین کو یا  ایک سے زیادہ کئی مساکین کو دے سکتے ہیں،البتہ ایک نماز یا  ایک روزے کا فدیہ ایک سے زیادہ مساکین کو نہیں دےسکتے۔

 

(ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة.

(وكذاحكم الوتر)والصوم...ولوأدى للفقيرأقل من نصف صاع لم يجز؛ ولو أعطاه الكل جاز... لا بد في كفارة الأيمان من عشرة مساكين، ولا يصح أن يدفع للواحد أكثر من نصف صاع في يوم للنص على العدد فيها، بخلاف فدية الصلاة فإنه يجوز إعطاء فدية صلوات لواحد.(الدرالمختارعلی صدر ردالمحتار،كتاب الصلاة،باب قضاءالفوائت،ج:2,ص:532،533،535)


فتویٰ نمبر : 9874/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں