بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

جناز گاہ میں لکڑی جلانا


سوال

کیا جناز گاہ میں لکڑ ی جلا سکتے ہیں  یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ  جناز گاہ  کی زمین اگر موقوفہ ہو، تو واقف نے جس مصرف کے لیے وقف کیا ہو اسی میں استعمال کرنا لازم ہے  ، اس کے علاوہ دیگر مصارف میں استعمال کرنے کی اجازت  نہیں ہے البتہ ضرورت کے وقت  عارضی طور پر ایسے مقصد کے  لیے استعمال کی جا سکتی ہے جو اصل مقصد میں رکاوٹ کا ذریعہ نہ بنے ،اور اگر جنازگاہ کی زمین کسی کی ملکیت میں ہو تو پھر مالک  کی اجازت  سے کوئی بھی تصرف جائز ہے۔

 

‌واختلفوا ‌في ‌مصلى ‌الجنازة والعيد فصحح في المحيط في مصلى الجنائز أنه ليس له حكم المسجد أصلا وصحح في مصلى العيد كذلك إلا في حق جواز الاقتداء وإن لم تتصل الصفوف وفي النهاية وغيرها.( البحر الرائق شرح كنز الدقائق،باب،نقش المسجد،ج:2،ص:39)

(‌و) ‌أما (‌المتخذ ‌لصلاة جنازة أو عيد) فهو (مسجد في حق جواز الاقتداء) وإن انفصل الصفوف رفقا بالناس (لا في حق غيره) به يفتى نهاية (فحل دخوله لجنب وحائض) كفناء مسجد ورباط ومدرسة ومساجد حياض وأسواق لا قوارع.( رد المحتار، على الدر المختار،فروع اشتمال الصلاة على الصماء والاعتجار والتلثم والتنخم وكل عمل قليل بلا عذر،ج:1،ص:657)


فتویٰ نمبر : 5676/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں