بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

وطن اصلی کاباطل ہونا


سوال

میں لاہور میں پچھلے پندرہ سال سے مقیم ہوں۔یہاں لاہور میں ہی ملازمت ،اپنا گھر، اور میری ساری فیملی ہے میرے چند رشتہ دار بھی یہاں لاہور میں مقیم ہیں اور آئندہ لاہور ہی میں رہنے کا ارادہ بھی ہے۔جبکہ میرا آبائی ،جدی،وطن/ علاقہ تلہ گنگ کا ایک گاؤں ہے جہاں میرا سارا خاندان آباد ہے وہاں ہمارا اپنا گھر بھی ہے، جس میں کوئی نہیں رہتا ۔ اور زرعی زمین بھی کچھ ہے جو کہ ہم کاشت نہیں کرتے نہ اس سے کوئی نفع وغیرہ حاصل کرتے ہیں۔اب اگر میں اپنے گاؤں پندرہ دن سے کم رکنے کے ارادے سے جاؤں تو کیا میں وہاں قصر نماز پڑھوں گا یا پوری اور میرا وطن اصلی لاہور ہوگا یا میرا گاؤں ؟

جواب

واضح رہے کہ اگرکوئی شخص بمع اہل وعیال وطن اصلی کو چھوڑ کر کسی دوسرے علاقے میں مستقل طور پر سکونت اختیار کرے اور آئندہ پرانے وطن میں نہ آنے کاعزم کرے تواس شخص کا وہ پراناوطن اصلی باطل ہو جاتا ہے اوردوسراعلاقہ جہا ں پر اس نے مستقل رہائش اختیار کی ہو وہ وطن اصلی بن جاتا ہے، لہذاجب کسی کام کے سلسلہ میں  اپنے پرانے علاقےکوجائے اور اس کی نیت پندرہ دن سے کم ٹہرنےکی ہوتوشرعی مسافر شمار ہوکر قصر نماز پڑھے گا، تاہم دونوں علاقوں کے درمیان شرعی سفرکا ہونا ضروری ہےاوراگردونوں علاقوں کے درمیان فاصلہ شرعی سفر سے کم ہو تودونوں جگہوں میں پوری نماز پڑھے گا۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگرسائل نے لاہورمیں اپنے اہل و عیال کے ساتھ مستقل طور پرسکونت اختیار کرکے آئندہ تلہ گنگ میں نہ رہنے کا عزم کرلیا ہو تواگرچہ تلہ گنگ  میں اس کا ذاتی گھر یا زمین  ہو تو پھر بھی وہ اس کاوطن اصلی باقی نہ رہا بلکہ لاہوراس کاوطن اصلی بن گیاہے لہذااگر یہ پرانے گاؤں جائے اور وہاں  پندرہ دن سے کم ٹہرنے کی نیت ہوتومسافرشمار ہو کرقصرنمازادا کرے گا ۔

 

‌والوطن ‌الأصلي ‌هو ‌وطن ‌الإنسان ‌في ‌بلدته ‌أو ‌بلدة أخرى اتخذها دارا وتوطن بها مع أهله وولده، وليس من قصده الارتحال عنها بل التعيش بها وهذا الوطن يبطل بمثله لا غير، وهو أن يتوطن في بلدة أخرى وينقل الأهل إليها فيخرج الأول من أن يكون وطنا أصليا حتى لو دخله مسافرا لا يتم قيدنا بكونه انتقل عن الأول بأهله؛ لأنه لو لم ينتقل بهم، ولكنه استحدث أهلا في بلدة أخرى فإن الأول لم يبطل ويتم فيهما وقيد بقوله بمثله؛ لأنه لو باع داره ونقل عياله وخرج يريد أن يتوطن بلدة أخرى ثم بدا له أن لا يتوطن ما قصده أولا ويتوطن بلدة غيرها فمر ببلده الأول فإنه يصلي أربعا؛ لأنه لم يتوطن غيره، وفي المحيط، ولو كان له أهل بالكوفة، وأهل بالبصرة فمات أهله بالبصرة وبقي له دور وعقار بالبصرة قيل البصرة لا تبقى وطنا له؛ لأنها إنما كانت وطنا بالأهل لا بالعقار، ألا ترى أنه لو تأهل ببلدة لم يكن له فيها عقار صارت وطنا له، وقيل تبقى وطنا له؛ لأنها كانت وطنا له بالأهل والدار جميعا فبزوال أحدهما لا يرتفع الوطن كوطن الإقامة يبقى ببقاء الثقل وإن أقام بموضع آخر اهـ.وفي المجتبى نقل القولين فيما إذا نقل أهله ومتاعه وبقي له دور وعقار ثم قال وهذا جواب واقعة ابتلينا بها وكثير من المسلمين المتوطنين في البلاد، ولهم دور وعقار في القرى البعيدة منها يصيفون بها بأهلهم ومتاعهم فلا بد من حفظها أنهما وطنان له لا يبطل أحدهما بالآخر وقوله لا السفر أي لا يبطل الأصلي بالسفر حتى يصير مقيما بالعود إليه من غير نية الإقامة، وكذا لا يبطل بوطن الإقامة وأما وطن الإقامة فهو الوطن الذي يقصد المسافر الإقامة فيه،وهوصالح لهانصف شهر،وهوينتقض بواحد.(البحرالرائق،كتاب الصلاة، باب المسافر،ج:2،ص:239)

(قوله الوطن الأصلي) ويسمى بالأهلي ووطن الفطرة والقرار ح عن القهستاني.(قوله أو تأهله) أي تزوجه. قال في شرح المنية: ولو تزوج المسافر ببلد ولم ينو الإقامة به فقيل لا يصير مقيما، وقيل يصير مقيما؛ وهو الأوجه ولو كان له أهل ببلدتين فأيتهما دخلها صار مقيما، فإن ماتت زوجته في إحداهما وبقي له فيها دور وعقار قيل لا يبقى وطنا له إذ المعتبر الأهل دون الدار كما لو تأهل ببلدة واستقرت سكنا له وليس له فيها دار وقيل تبقى. (ردالمحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة،باب صلاة المسافر، ج:2، ص:131)


فتویٰ نمبر : 9865/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں