بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

حرمت مصاہرت کا ثبوت


سوال

اگر کوئی شخص اپنی سوتیلی بیٹی جس کا عمر نو سال سے زائد ہو اس کے گال پر ہاتھ لگائے اور اس وقت شہوت ناہومگر اپنی بیوی کا خیال دل میں آنے سے اس کو عضو کے رگوں میں نہایت ہی معمولی ہلنے کا احساس ہو مگر اس کے بعد مصافحہ بھی کرے اور یہ چھونا چند سیکنڈ کا تھا اس سے آگے اس کے عضو تناسل میں انتشار جسمانی یا سختی کا ہونا بھی یاد نہیں تو ہاتھ جدا ہونے کے بعد مضمحل سی صورت انتشار کاذہن میں ہے مگر جس وقت اس کا جسم اس کے ساتھ ٹچ تھا اس وقت واقعتاً اس کو انتشار کا یاد نہیں تو اب اس کو شبہ ہو رہا ہے کہ انتشار نا ہوا اور غلبہ ظن بھی بالکل نہیں انتشار ہونے کا اور یہ چھونا بھی بلا حائل تھا اس بارے میں کوئی تسلی بخش جواب دیں کیا اس صورتحال میں حرمت مصاہرت ثابت ہو گی یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ حرمت مصاہرت کے ثبوت کے لیے شہوت کا ہونا ضروری ہے لہذاجب تک شہوت ہونے کا یقین نہ ہو،صرف شک اور وسوسہ کی بنا پرحرمت مصاہرت   ثابت نہیں ہوتی۔

صورت مسئولہ کے مطابق جب سائل کاغالب گمان یہ ہے کہ اس کو اس  وقت شہوت کا کوئی غلبہ نہ تھا تو حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی ہے۔

 

فإن نظرت المرأة إلى ذكر الرجل أو لمسته بشهوة أو قبلته بشهوة تعلقت به حرمت المصاهرة كذا في الجوهرة النيرة ولا تثبت بالنظر إلى سائر الأعضاء إلا بشهوة ولا بمس سائر الأعضاء لا عن شهوة بلا خلاف.(الفتاوى الهندية،كتاب النكاح،الباب الثالث في بيان الحرمات، ج: 1 ص: 274)

اليقين لا يزول بالشك .(الاشباه والنظائرلابن نجيم،القاعدةالخامسة،ص:27)

وقال عامةالعلماءالشهوة أن يميل قلبه إليها ويشتهي أن يواقعها.(الفتاوى الهندية،کتاب النکاح،باب فی بیان المحرمات،ج:1،ص:317)


فتویٰ نمبر : 6814/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں