بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

فرض نماز کے بعد مسنون اذکار پڑھنے کا مقام


سوال

اذکار مسنون جیسے تسبیحات فاطمہ، آیۃ الکرسی، فاتحہ اور معوذتین کو فرض کے بعد پڑھنا چاہیے یا سنتوں کےبعد یا سنتوں کے بعد جو نوافل پڑھی جاتی ہیں ، جیسے مغرب میں اوابین کیا  ان اذکار کو نوافل کے بعد پڑھنا اولی ہے یا سنتوں کے بعد نوافل سے پہلے؟

جواب

واضح رہے کہ فرض نمازوں کے بعد مختلف دعائیں اور اذکار احادیث مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ سے منقول ہیں ، افضل اور مستحب  یہ ہے کہ فرض نمازوں کے بعد مذکورہ اورادکو  پڑھ لیا جائے۔

صورت مسئولہ کے مطابق تسبیحات فاطمہ، آیۃ الکرسی اور معوذتین کو فرض  نمازوں کے بعد پڑھنا   مستحب ہے ،البتہ سنن اور نوافل کے بعد بھی پڑھ سکتے ہیں ،البتہ سورۃ  فاتحہ مسنون اذکار میں شامل نہیں ،کیونکہ کسی بھی  روایت میں فرض نماز کے بعد  سورۃ فاتحہ  پڑھنے کا  ذکر نہیں ہے۔

ويكره ‌تأخير ‌السنة إلا بقدر اللهم أنت السلام إلخ. قال الحلواني: لا بأس بالفصل بالأوراد واختاره الكمال. قال الحلبي: إن أريد بالكراهة التنزيهية ارتفع الخلاف قلت: وفي حفظي حمله على القليلة؛ ويستحب أن يستغفر ثلاثا ويقرأ آية الكرسي والمعوذات ويسبح ويحمد ويكبر ثلاثا وثلاثين؛ ويهلل تمام المائة ويدعو ويختم بسبحان ربك...(ردالمحتار، على الدر المختار، فروع قرأ بالفارسية أو التوراة أو الإنجيل،ج:1،ص:530)


فتویٰ نمبر : 9861/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں