بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
"اب آپ آزاد ہو" کے الفاظ متعدد بار کہنا
سوال
ایک شخص کی بیوی بات بات پر اپنے شوہر سے ناراض ہوتی،جب شوہر تنگ آجاتا تو اس کو سیدھا کرنے کے لیے باتکلف ناراض ہوجاتا اور اپنی بیوی سے بسترا علیحدہ کرلیتا،اور باتیں بھی ترک کرلیتا،جب بیوی شوہر کو منوانے آتی ہے ،تو شوہر کہتا ہے اب اپ آزاد ہو ،مجھ کو معاف کردو،اب آپ اپنی مرضی کرتی رہو تجھے کوئی بھی نہیں روکے گا۔بیوی شوہر کو منوانے پر اصرار کرتی ،لیکن شوہر بار بار یہ جملہ کہتا بس اب آپ آزاد ہو اور میں بھی آزاد ہوں،تم اپنی مرضی پر چلنا ،میں اپنی مرضی پر ۔اسی طرح شوہر نے باتوں باتوں میں یہ بھی کہا کہ اگر میں پسند نہیں ہوں تو پھر (زہ اجازت درکوم بل میڑہ کہ کوے)میں اپ کو اجازت دیتا ہوں کہ دوسرے شخص سے شادی کرلو۔ان سب باتوں کے دوران اور نہ اس سے پہلے اور نہ بعد میں شوہر کی طلاق کی نیت نہیں تھی اور نہ ہی اس کے وہم خیال میں یہ بات تھی،صرف بیوی کو ڈرانے کے لیے یہ سب کچھ کہا تھا۔ان سب باتوں کے بعد بیوی ناراض ہوکر میکے چلی گئی جو دو ،تین ماہ بعد واپس لائی گئی ،بعد میں ان کو پتہ چلا کہ ان الفاظ سے طلاق واقع ہوتی ہےتو آیا ان الفاظ سے کتنی طلاق واقع ہوئی ہیں؟
جواب
واضح رہے کہ اگر کوئی لفظ طلاق کے لیے کنائی ہو، لیکن کسی عرف میں اس کا استعمال طلاق کے لیے اس کثرت سے استعمال ہونے لگے کہ اس لفظ سے طلاق ہی کی طرف ذہن جاتا ہوتو اس لفظ کو صریح کا درجہ حاصل ہوگا، لہذا ایسے لفظ کے استعمال کرنے سے طلاق واقع ہوجائے گی، خواہ طلاق کی نیت کی ہو یا نہ کی ہو۔"آزاد ہو"کے الفاظ اگر چہ کنائی ہیں لیکن ہمارے معاشرے میں طلاق ہی کے لیے استعمال ہوتے ہیں، اس لیےاس کو طلاق صریح میں شمار کیا جاتا ہےاور نیت کےبغیر بھی اس سے طلاق واقع ہوتی ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر واقعی شوہر نے مذکورہ الفاظ کہ "اب آپ آزاد ہو مجھ کو معاف کردو" اور "اب آپ آزاد ہو اور میں بھی آزاد ہوں " کو دو مرتبہ سے زائد کہا ہو تو ایسی صورت میں عورت مطلقہ مغلظہ ہوکر شوہر پر حرام ہوچکی ہے، لیکن اگر دو مرتبہ کہے ہوں تو ایسی صورت میں دو طلاق رجعی واقع ہوچکی ہیں اور شوہر کو ایک طلاق کا اختیار باقی رہ چکا ہے۔
فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الطلاق، باب الكنايات،ج:3،ص:299)
(صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية.قال ابن عابدين رحمه الله: (قوله ولو بالفارسية) فما لا يستعمل فيها إلا في الطلاق فهو صريح يقع بلا نية.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الطلاق،باب صريح الطلاق،ج:2،ص:247)
إن الصريح ما غلب في العرف استعماله في الطلاق بحيث لا يستعمل عرفا إلا فيه من أي لغة كانت.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الطلاق،باب صريح الطلاق،ج:2،ص:252)
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها.(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الباب السادس،ج:1،ص:473)
وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض.(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الباب السادس،ج:1،ص:470)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں