بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

کرایہ کی دکان کے بالائی حصہ کو استعمال کرنا


سوال

میں نے ایک دکان کرایہ پر لی ہے جس کی چھت پر تعمیر وغیرہ نہیں ،ميرا  اراده ہے کہ اس پر سولر رکھوں ،تو کیا میرے لیے چھت کے بالائی حصہ پر سولر رکھنا شرعاً جائز ہے، یا نہیں؟ رہنمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ کرایہ دار کے لئے ضروری ہے کہ وہ کرایہ کے اثاثوں کو اس کے مناسب اورمعروف طریقہ سے استعمال کرے چنانچہ اگر کرایہ دار کے کسی عمل سے عین موجرہ(کرایہ پر دینے والی چیز )کی عمارت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو ، تو ایسی صورت میں مالک سے  اجازت لینا ضروری ہوگا ، اجازت لیے بغیر اگر مستاجر کے کسی عمل سے عین موجرہ كی عمارت كو نقصان پہنچ جائے  تو اس کا ذمہ دار  کرایہ دار ہو گا۔

صو رت مسؤلہ کے مطابق دکان کی چھت کے بالائی حصہ پر سولر رکھنے سے اگر چھت کو کوئی نقصان نہ پہنچتا ہو تو کرایہ دار کےلیےعرف کے مطابق  اسے استعمال میں لانا شرعاً جائز ہے  البتہ اگر چھت کے گرنے یا کمزور ہونے کا خطرہ ہو  ،تو ایسی صورت میں مالک کی اجازت کے بغیر استعمال کرنا  جائز نہیں۔

 

"إذا استأجر دارا ،أو بيتا، ولم يسم الذي يريدهاله حتى جازت الإجارة استحسانا،كان للمستأجر أن يسكنها، وأن يسكنها، وله أن يضع فيها متاعه، وله أن يعمل فيها ما بداله من العمل مما لا يضر بالبناء ولا يوهنه نحو: الوضوء، وغسل الثياب، أما كل عمل يضر بالبناء ويوهنه نحو:الرحى،والحدادة،والقصارة، فليس له ذالك إلا برضا صاحبه"

(الفتاوى الهنديه،كتاب الإجارة،الباب الثاني،والعشرون : في بيان التصرفات التي يمنع المستأجر عنها،وما لا يمنع، وفي تصرفات الأجر،ج:4 ،ص:510)


فتویٰ نمبر : 3454/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں