بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

حروف والےچپل پہننے کا حکم


سوال

شریعت اس بارے میں کیا کہتی ہےکہ ہم جوچپل پہنتے ہیں  ان پر کسی بھی زبان میں کچھ نہ کچھ لکھا ہوتا ہے، میرا سوال یہ ہے کہ کیا ایسی چپل پہننا جائز ہے جس  پرکچھ حروف ہوں؟

جواب

واضح رہے  کہ توہین بنیادی طور پر ایک اعتقادی چیز ہے جس کا ظہور عملی میدان میں ہوتا ہے،لہذا اگر کسی چپل وغیرہ پر لکھے گئے حروف صراحتا توہین آمیز ہوں  یا  ان  سےکسی شعائراللہ وغیرہ کی بے ادبی  کا اندیشہ   ہوتو ایسی چپل  کااستعمال کرنا   جائز نہیں،لیکن اگر اس میں توہین کا کوئی پہلو نہ ہوتو پھر اس کا پہننا جا ئز ہےتاہم عربی زبان کے حروف تہجی زیادہ  قا بل احترام ہیں  اس لیے ان  حروف کو ایسی جگہ لکھنا جس سے ان کی بے ادبی کا اندیشہ ہو ،  کراہت سے خالی نہیں ۔

‌

إذا ‌كتب ‌اسم ‌فرعون ‌أو ‌كتب أبو جهل على غرض يكره أن يرموا إليه؛ لأن لتلك الحروف حرمة، كذا في السراجية (الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، الباب الخامس في آداب المسجد... ج:5، ص374، دارالفكر)

قلت: ‌لكن ‌نقلوا ‌عندنا ‌أن ‌للحروف ‌حرمة ولو مقطعة (ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الطهارة، باب الأنجاس، ج:1، ص:552، دارالكتب العلمية)

ويكره أن يجعل شيئا في كاغذة فيها اسم الله تعالى كانت الكتابة على ظاهرها أو باطنها (الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، الباب الخامس في آداب المسجد.ج:5، ص322، دارالفكر)


فتویٰ نمبر : 5680/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں