بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

طلاق بائن کے بعد عدت میں طلاق صریح کا حکم


سوال

طلاق بائن کے بعد عدت میں صریح طلاق کیوں واقع ہوگی؟جب طلاق بائن سے نکاح ختم ہو جاتا ہے اسی وقت، تو پھر طلاق کیسے ہوگی؟ جبکہ احادیث موجود ہے ، (ابن ماجہ 2049/2048،مشکاۃ 3281،مسند احمد 190 جلد2) اور اگر کوئی  یہ فتوی دیتا ہے کہ طلاق بائن کے بعد عدت میں بھی صریح یعنی کنائی طلاق نہیں ہوتی تو اگر ان کے فتوی پر عمل کیا جائے تو کیا انسان گمراہ ہو جائے گا،جبکہ وہ صریح حدیث کاحوالے دے رہا ہے؟

جواب

واضح ہے کہ  طلاق بائن کے بعد  عدت میں عورت مکمل طور پر آزاد نہیں ہوتی  اور اس کا نکاح  مکمل طور پر ختم نہیں ہوتابلکہ عدت میں بھی مطلقہ عورت پرچند پابندیاں عائد ہوتی ہیں اور اس پر نکاح کے کچھ اثرات باقی رہتے ہیں اس وجہ سے اس کے لئے گھر سےنکلنا  اور دوسری جگہ نکاح کرنا جائز نہیں ہوتا۔لہذا گر کوئی عورت طلاق بائن کے بعد عدت میں ہو  اور شوہر اس کو طلاق صریح دے تو یہ واقع ہو جائی گی ۔

صورت مسؤلہ میں جس حدیث  کا حوالہ دیا  گیا ہے اس کے الفاظ اس طرح ہیں"لا طلاق قبل نکاح "(ابن ماجہ2048)۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ  نکاح سے پہلے طلاق واقع نہیں ہوتی  یعنی  جب نکاح ہوا ہی نہ ہو تو طلاق واقع  نہیں ہوتی۔اس حدیث سے سوال میں مذکور مسئلہ کے لئے استدلال درست نہیں کہ طلاق بائن کے بعد صریح طلاق واقع نہیں ہوتی  اس لئے کہ طلاق بائن کے بعد نکاح کے کچھ آثار باقی ہو تےہیں اس وجہ سے طلاق صریح واقع ہو تی ہے۔

 

قال: "لاطلاق قبل نکاح، ولا عتاق..."   قال الطیبي:النّفي واٍن جرى على لفظ الطلاق والعتاق وغيرهما لكنّ المنفي محذوف أي لا وقوع لطلاقٍ قبل نكاحٍ، ولاتقرّرعتاق اٍلّا بعد ملك.(مرقاةالمفاتيح،ملّاعلي قاري، كتاب النكاح،حديث:3281،ج:6،ص:422)  

وجملۃ الکلام فیہ أنّ المرأۃلا تخلوإمّا أن کانت معتدّہ من طلاق رجعي أو بائن أو خلع، فان کانت من رجعي يقع الطلاق عليها،سواءكان صريحاً أو كنايةً؛لقيام الملك من كلّ وجه؛لأنّ الطلاق الرجعي لا يزيل الملك...  وإن کانت معتدّۃ من طلاق بائن أو خلع، وھي المبانۃ أوالمختلعۃ،فیلحقھا صریح الطّلاق عندأصحابنا... لأنھا بالخلع والإبانۃلم تخرج من أن تکون محلّا للطّلاق؛لأنّ حکم الطّلاق إن کان ما ینبیٔ عنہ اللفظ لغۃً، وھو الانطلاق والتخلّی وزوال القید، فھی محلٌّ لذالک؛ لأنّھا مقیّدۃ فی حال العدّۃ؛ لأنّھا ممنوعۃ عن الخروج والبروز،والتزوّج بزوج آخر،وإن کان ما لا ینبئ عنہ اللفظ لغۃ وھو زوال حلّ المحلیّۃ شرعا فجعل المحلیّۃ قائم؛ لأنّھا لا یزول إلّا بالطلقات الثلاث، ولم توجد فكانت المبانة والمختلعة محلّين للطلاق.(بدائع الصنائع، كتاب الطلاق،فصل فيما يرجع إلى المرأة في الطلاق، ج:4،ص:294/295)


فتویٰ نمبر : 6824/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں