بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

صفوں کے مابین سڑک کا حائل ہونا


سوال

معاذ بن جبل  کے نام سے  ایک جامع مسجد ہے ،جمعہ کے دن نمازیوں کے تعداد  زیادہ ہو نے کی وجہ سے  مسجد سے باہر  ایک پلاٹ ہے  لوگ اس میں بھی اپنے لیے چادر وغیرہ بچھاکر اقتداکرتے ہیں ، لیکن مسجد  اور  پلاٹ کے درمیان  تقریبا 20فٹ کی  سڑک ہے نمازی سڑک چھوڑ کر پلاٹ میں  امام کی اقتدا میں نماز جمعہ ادا کرتے ہیں تو کیا ان کی اقتدا درست ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ مقتدیوں کے صفوں کے مابین  اتصال ضروری ہے ۔اگر صفوں کے مابین  کسی روڈیا راستے  کی وجہ سے اتنا فاصلہ ہو کہ جس میں گاڑی  گذر سکے تو اس قدر فاصلہ  اتصال کے لیے مانع ہے،اس لیے  دوسری جانب لوگوں کی نمازیں درست نہیں ہوں گی۔

صورت مسئولہ  ميں محرره بيان كے مطابق بیس (20)فٹ كی سڑك اتصال سے مانع ہے،لہذا اس صورت میں پلاٹ میں کھڑے ہونے والوں کی نمازجائز نہیں ہوگی،تاہم اگر  سڑک پر  بھی  صفیں کھڑی ہوں اور مسجد اور باہر پلاٹ کے درمیان  مکمل اتصال ہو تو اس صورت میں پلاٹ میں کھڑے ہونے  والوں کی نماز یں درست ہوں گی۔

 

‌إذا ‌كان ‌بين ‌الإمام ‌وبين ‌المقتدي طريق إن كان ضيقا لا يمر فيه العجلة والأوقار لا يمنع وإن كان واسعا يمر فيه العجلة والأوقار يمنع. كذا في فتاوى قاضي خان والخلاصة هذا إذا لم تكن الصفوف متصلة على الطريق أما إذا اتصلت الصفوف لا يمنع الاقتداء.(الفتاوى الهندية،ج:1،ص:87)


فتویٰ نمبر : 9853/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں