بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

قسم میں مخاطب کے مراد کے خلاف نیت کرنا


سوال

قسم کرنے میں کس کی نیت کا اعتبار ہوتاہےحالف (قسم کرنے والے ) یا  مستحلف (جس کےسامنے قسم کی جائے )کی ،اگر کوئی شخص ناحق طورپر قسم کو تیار ہوجائے اور قسم میں وہ حیلہ کرکے دوسری نیت کرے تو اس سے وہ حانث ہوگا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ قسم اٹھانے  والا اگر ظالم ہو تو مخاطب کی نیت معتبر ہوتی ہے اور اگر مظلوم ہو تو قسم کرنے والے کی نیت کا اعتبار ہوتا ہے۔

صورتِ مسئولہ  کے مطابق اگر کو ئی شخص ناحق طریقہ پر  قسم اٹھاتا ہوکرتا ہو اوروہ حیلہ کرکے اپنی قسم میں مخاطب کی نیت کے علاہ کی نیت کرے تو اس کی نیت کا اعتبار نہیں ہوگا بلکہ  مخاطب کی نیت کا اعتبار ہوگا اور ایسے قسم کرنے سے وہ حانث ہوگا۔لیکن اگر وہ مظلوم ہو اور اپنا حق حا صل کرنے کے لیےاس کو قسم اٹھانی  پڑےاور قسم میں وہ کوئی  حیلہ اختیار کرے تواس کی نیت کا اعتبار ہوگا اور قسم میں حانث نہیں ہوگا۔

 

وإن كانت اليمين بالله تعالى، فلو الحالف مظلوما فالنية فيه إليه وإن ظالما يريد إبطال حق الغير اعتبر نية ‌المستحلف وهو قول أبي حنيفة ومحمد.(بدائع الصنائع،كتاب الأيمان،ج:3،ص:785)

 عن إبراهيم النخعي رضي الله عنه أنه قال: اليمين على نية الحالف إن كان مظلوماً، وإن كان ظالماً فعلى ‌نية ‌المستحلف وبه أخذ أصحابنا رحمهم الله.(المحيط البرهاني،كتاب الأيمان والنذور،ج:4،ص:208)

 فلو الحالف مظلوما فالنية فيه إليه وإن ظالما يريد إبطال حق الغير اعتبر ‌نية ‌المستحلف وهو قول أبي حنيفة ومحمد.(ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الأيمان،ج:3،ص:785)


فتویٰ نمبر : 9855/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں