بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

حائضہ عورت یا پرائی عورت کا میت کو غسل دینا اور اس کے بعد غسل کرنا


سوال

اگر کسی جگہ حائضہ عورتوں کے علاوہ ایسی غیر حائضہ عورتیں  موجود ہو ں جو  میت کو غسل دینا نہیں جانتی  یا غسل دینے سے ڈرتی ہوں تو کیا حائضہ  غسل دے سکتی ہیں یا نہیں  ۔میت کو غسل دینے والی کا رشتہ دار ہونا ضروری ہے یا نہیں ؟ نیز غسل دینے  والی عورت کے لیے پھرغسل کرنا ضروری ہے یا نہیں ۔ شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

 بہتر یہ ہے  میت کو غسل دینے والی عورت  حیض سے  پاک ہو،تاہم اگر کہیں کوئی اور غسل دینے والی موجود نہ ہویا حیض سے پاک عورت   کو غسل دینے کا طریقہ معلوم نہ ہو  یا  غسل  دینے سے ڈرتی ہو ،تو ایسی  صورت میں حائضہ کے لیے  غسل دینے کی گنجائش ہے۔

 میت کو غسل دینی والی کا رشتہ دار ہونا ضروری نہیں البتہ تقوی  دار، صالحہ اور رازدار   ہونا  بہتر  ہے ،تاکہ اگر میت کی کوئی کمزوری یا   کوئی برائی اس پر ظاہر ہوجائے تو لوگوں سے اس کو چھپائے  ۔

نیز غسل دینے والی عورت  کے لیے غسل کرنا  لازم و ضروری نہیں البتہ  مستحب  ہے۔ 

 

‌"وينبغي ‌أن ‌يكون ‌غاسل ‌الميت على الطهارة كذا في فتاوى قاضي خان، ولو كان الغاسل جنبا أو حائضا أو كافرا جاز ويكره، كذا في معراج الدراية…ويستحب للغاسل أن يكون أقرب الناس إلى الميت فإن لم يعلم الغسل فأهل الأمانة والورع، كذا في الزاهدي.يستحب أن يكون الغاسل ثقة يستوفي الغسل ويكتم ما يرى من قبيح ويظهر ما يرى من جميل…".(الفتاوى الهندية،كتاب الصلاة،الباب الحادى والعشرون في الجنائز،ج:1،ص:159)

"ويندب الغسل ‌من ‌غسل ‌الميت".(فتح القدير،كتاب الصلاة،باب الجنائز،ج:2،ص:112)


فتویٰ نمبر : 9858/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں