بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

میت کے ساتھ کلمہ طیبہ دفن کرنا


سوال

بعض لوگ   کاغذ وغيره  پر کلمہ طیبہ لکھ کر میت کے کفن میں رکھتے  ہیں،  شرعاً اس کا کیا حکم ہے ؟

جواب

مردہ کے اوپر کوئی ایسا کاغذ یا کپڑارکھنا جس پر کلمہ طیبہ یا قرآن کریم کی آیات لکھی ہوئی ہو، یا اس کےکفن میں شامل کرنا جائز نہیں،اس سے  کلمہ طیبہ اور آیات مبارکہ کی بے حرمتی ہوتی ہے۔ اس لیے اس عمل سے احتراز لازم ہے۔

 

"تكره كتابة القرآن وأسماءالله - تعالى - على الدراهم والمحاريب والجدران وما يفرش، وما ذاك إلا لاحترامه، وخشية وطئه ونحوه مما فيه إهانة فالمنع هنا بالأولى ما لم يثبت عن المجتهد أو ينقل فيه حديث ثابت فتأمل، نعم نقل بعض المحشين عن فوائد الشرجي أن مما يكتب على جبهة الميت بغير مداد بالأصبع المسبحة -بسم الله الرحمن الرحيم- وعلى الصدر لا إله إلا الله محمد رسول الله، وذلك بعد الغسل قبل التكفين اهـ والله أعلم".(ردالمحتار،كتاب الصلاة،باب صلاة الجنازه،مطلب في وضع الجريد ونحو الآس على القبور،ج:2،ص:246)


فتویٰ نمبر : 5656/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں