بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مہر میں دی گئی زمین اور سونے کا حکم


سوال

انور جمال نے اپنی بیوی کو نکاح نامہ میں دس تولے سونا بطور مہر مقرر کیا تھا جس میں آٹھ تولے سونا بوقت نکاح دیا تھا اور دو تولے سونا بعد میں ادا کرنا تھا اسی طرح بطور مہر گھر میں  ایک حصہ بھی لکھا تھا،اب انور جمال فوت ہوچکا ہے تو درجہ ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں۔1۔مہر میں لکھے گئے گھر کا کیا حکم ہے کیا وہ انور جمال کے میراث میں شمار ہوگایا وہ بیوی کاہوگا؟2۔مہر میں لکھے گئے باقی دو تولے سونے کا کیا حکم ہے

جواب

واضح رہے کہ شوہر اگربیوی کو مہر میں متعین گھر یا زمین لکھ دے تووہ بیوی کی ملکیت بن جاتی ہے اور اس میں کسی کا کوئی حق نہیں ہوتا ،اسی طرح شوہر کے ذمے بیوی کے لیےمقرر کردہ تمام مہر  دینا واجب ہے ، اگر شوہر کا انتقال ہوجائے اور مکمل ادائیگی نہ کی ہو  تو اس کے میراث سے اس کی ادائیگی کی جائےگی۔

صور ت مسئولہ کے مطابق انور جمال نےبیوی کو بطور مہر گھر میں اپناحصہ لکھا تھاتو بیوی اس کی مالکہ ہے،لہذا یہ مرحوم کا میراث نہیں ہے،اسی طرح مہر میں لکھے گئے باقی دو تولے سونا بھی انور جمال کے ذمے قرض باقی ہے، اب اس کے ترکہ سے یہ قرض پورا کیا جائے گا،اور اگر اس نے ترکہ میں کچھ نہ چھوڑا ہوتو کسی اور کے ذمے اس کی ادائیگی لازم نہیں۔

 

 وقال الإمام الكرخي؛ المهر لا يكون إلا ما هو مال أو ما يوجِب تسليم مال.(الفتاوى التاتارخانية،کتاب النکاح،الفصل السابع عشر  في المهر،ج:4،ص159،مكتبه زكريا ديوبند)

أما الأول: فلأن ‌المسمى ‌دين ‌في ‌ذمته وقد تأكد بالموت فيقضى من تركته(البناية شرح الهداية،كتاب النكاح،باب المهر، ج:5، ص:195،دار الكتب العلمية)


فتویٰ نمبر : 6816/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں