بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 22/10/2026 |
دارالافتاء
مرض وفات میں وارث کا قرض معاف کرنا
سوال
میں نے اپنے والد صاحب سے چھ لاکھ روپے قرض لیے تھے اب حالت مرض وفات میں اس نے کہا ہے کہ مجھ سے جس نے جو بھی کھایا پیا ہے یا میرا جو حق کسی کے ذمے ہے وہ سب معاف ہے، تو پوچھنا یہ ہے کہ اس صورت میں میرے چھ لاکھ کا قرض بھی معاف ہوا ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ مرض الموت میں مبتلا شخص اگر کسی کو قرض معاف کردے تو یہ وصیت شمار ہوتاہے اور شریعت میں کسی شخص کا اپنے وارث کیلئے وصیت کرنا جائز نہیں۔
صورت مسئولہ کے مطابق سائل کے والد کا مرض وفات میں تمام حقوق معاف کرنا شرعی اعتبار سے وصیت كے حكم میں ہے اور اپنے ورثا کیلئے وصیت کرنا شرعا معتبر نہیں،اس لیے سائل کے ذمےوالد کا قرض معاف نہیں ہوگا، لہذااس کے ذمے قرض واپس کرنا ضروری ہے۔
عن عمرو بن خارجة أن النبي صلى الله عليه و سلم خطبهم وهو على راحلته . وإن راحلته لتقصع بجرتها . وإن لغامها ليسيل بين كتفي قال :إن الله قسم لكل وارث نصيبه من الميراث . فلا يجوز لوارث وصية .(سنن ابن ماجہ ،باب لاوصیۃ لوارث،ج2ص905)
سئل) في مريضة مرض الموت أبرأت فيه زوجها من دين لها بذمته ومن مؤخر صداقها المعلوم لها عليه وماتت من مرضها المذكور عنه وعن ابن وبنت من غيره لم يجيزوا الإبراء المذكور فهل يكون الإبراء غير جائز؟
(الجواب) : نعم قال في التنوير إبراؤه مديونه وهو مديون غير جائز أي لا يجوز إن كان أجنبيا وإن كان وارثا فلا يجوز مطلقا سواء كان المريض مديونا أو لا للتهمة.(العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية،كتاب الإقرار،باب إقرار المريض،ج:2،ص:54،دار المعرفة)
ولأنه لما مرض مرض الموت فقد تعلق حق الورثة بماله ولهذا لا يملك أن يتبرع عليه بشيء من الثلث مع ما أنه خالص ملكه.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،كتاب الإقرار، فصل أنواع المقر به،ج:7،ص:223 دار الكتب العلمية)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں