بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

علماء کے بارے میں غلط باتیں کرنا


سوال

میرے شوہر نے ایک مرتبہ کہا کہ میرے پاس ایسا علم ہے جو اللہ کے پاس نبی کے پاس اور میرے پاس ہے ۔ ایک مرتبہ کہا کہ میرے پاس ایسا علم ہے جو صرف اللہ کے پاس میرے پاس اور شیطان کے پاس ہے۔ ایک موقع پر میرے اور میرے شوہر کے درمیان کسی شرعی  مسئلےپر بات ہو رہی تھی تو میرے شوہر نے کہا کہ میں  ان جهوٹے زندیق علماء کی بات نہیں  مانتا ۔ اس کے علاوہ میرے شوہر علماء کے بارے میں غلط باتیں بھی کرتے ہیں کہ علماء  سوئے ہوئے ہیں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے۔ کیا یہ الفاظ کہنا درست ہے کیا ایسے الفاظ کہنے والا شخص اسلام پر باقی رہے گا؟

جواب

فقہائے کرام کی تصریحات  کے مطابق اگر  کوئی مسلمان ایسی بات کہے جس میں کفر  اور غیر کفر دونوں کا احتمال نکل سکتاہو تو   اسے کافر قرار نہیں دیا جائے گا۔

صورت مسؤلہ کے مطابق  سائلہ کے   شوہر کی بات"میرے پاس ایسا علم ہے جو  اللہ کے پاس ،نبی کے پاس ، اور میرے پاس ہے"اسی طرح یہ کہنا کہ"صرف اللہ کے پاس ،میرے پاس اور شیطان کے پاس ہے یہ  الفاظ کفر نہیں ۔البتہ آئندہ کے لیے ایسی باتوں سے اجتناب ضروری ہے۔

نیز علمائے کرام کے بارے میں "جھوٹے زندیق "کہنااور  ان کوبرا بھلا کہنا یا گالی دینا  مسلمان کی شان نہیں ہے ، فقہاءِ کرام نے ایسے شخص کے بارے میں  کفر کا اندیشہ ظاہر کیا ہے جو  کسی ظاہری سبب کے بغیر دل میں علماءِ کرام کا بغض رکھتاہو يا علم   کی وجہ سےعلماء کی تحقیر کرتا ہو۔ لہذا اپنے اس عمل پر سچے دل سے توبہ و استغفار  لازم ہے اور آئندہ کے لیے  علماءِ کرام سے بدگمان ہونے سے اجتناب  کرے۔

 

(و) اعلم أنه (لا يفتى بكفر مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن أ و كان في كفره خلاف، ولو) كان ذلك (رواية ضعيفة) كما حرره في البحر،۔۔۔إذا أراد أن يتكلم بكلمة مباحة فجرى على لسانه كلمة الكفر خطأ بلا قصد لا يصدقه القاضي وإن كان لا يكفر فيمابينه وبين ربه تعالى، فتأمل ذلك۔(الدر المختار مع رد المحتار،ج:4،ص:229)

وفي البزازية فالاستخفاف بالعلماء ‌لكونهم ‌علماء استخفاف بالعلم والعلم صفة الله تعالى منحه فضلا على خيار عباده ليدلوا خلقه على شريعته نيابة عن رسله فاستخفافه بهذا يعلم ۔۔۔والاستخفاف بالأشراف والعلماء كفر.ومن قال للعالم عويلم أو لعلوي عليوي قاصدا به الاستخفاف كفر.ومن أهان الشريعة أو المسائل التي لا بد منها كفر ومن بغض عالما من غير سبب ظاهر خيف عليه الكفر ولو شتم فم عالم فقيه أو علوي يكفر وتطلق امرأته ثلاثا إجماعا كما في مجموعة المؤيدي ۔(مجمع الانهرفي شرح ملتقى الابحر،ج:1،ص:695)


فتویٰ نمبر : 5652/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں