بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 19/10/2026 |
دارالافتاء
موبائیل گیمز کھیلنے کا حکم
سوال
موبائیل گیم کھیلنا کیسا ہے؟
جواب
کسی بھی قسم کا کھیل جائز ہونے کے لیے ضابطہ یہ ہے کہ اس کھیل میں کوئی دینی یا دنیوی منفعت ہو، مثلا: تشحیذ اذہان (ذہن کی تیزی)، جسمانی ورزش وغیرہ، اس کھیل میں غیر شرعی امور کا ارتکاب نہ کیا جاتا ہو، اور اس میں اتنا انہماک نہ ہو کہ جس کی وجہ سے فرائض یا واجبات میں کوتاہی یا غفلت پیدا ہو۔اگر کسی کھیل میں ان شرائط کا لحاظ نہ ہو تو وہ ناجائز ہوگا۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر موبائیل گیم کھیلنے میں درج بالا شرائط کی رعایت نہ ہو ، یعنی اس میں مشغول ہوکر فرائض و واجبات میں کوتاہی اور غفلت برتی جاتی ہو، یا اس میں غیر شرعی امور کا ارتکاب کیا جاتا ہو، مثلا: موسیقی، جاندار کی تصاویر وغیرہ، تو وہ ناجائز ہوگا، تاہم اگر اس میں مذکورہ شرائط کی رعایت رکھی جائے تو پھر اس کے کھیلنے کی گنجائش ہے۔
عن سليمان بن بريدة، عن أبيه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال "من لعب بالنردشير، فكأنما صبغ يده في لحم خنزير ودمه". (صحيح مسلم، ج:4، ص:1770، رقم الحديث:2260، دار إحياء التراث العربي، بيروت)
(و) كره تحريما (اللعب بالنرد و) كذا (الشطرنج)... وأباحه الشافعي وأبو يوسف في رواية، ونظمها شارح الوهبانية فقال: ولا باس بالشطرنج... وهذا إذا لم يقامر ولم يداوم ولم يخل بواجب، وإلا فحرام بالاجماع (و) كره (كل لهو) لقوله عليه الصلاة والسلام: كل لهو المسلم حرام إلا ثلاثة: ملاعبته أهله، وتأديبه لفرسه، ومناضلته بقوسه. (الدر المختار شرح تنوير الأبصار و جامع البحار، ص:662، دار الكتب العلمية، بيروت)
وعلى هذا الأصل فالألعاب التي يقصد بها رياضة الأبدان أو الأذهان جائزة في نفسها، مالم تشتمل على معصية أخرى، ومالم يؤد الانهماك فيها إلى الإخلال بواجب الإنسان في دينه و دنياه، والله سبحانه أعلم. (تكملة فتح الملهم، ج:4، ص: 432، مكتبة دارالعلوم، كراتشي)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 328
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 244
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 891
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 574
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 493
- خلع | فتاوئ : 49
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 59
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 476
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 176
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 410
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 152
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 62
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 322
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1191
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں