بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/10/2026

دارالافتاء

 

ورثاء میں والدین، پانچ بھائی اور چار بہنیں ہوں تو میراث کی تقسیم


سوال

ایک شخص فوت ہوا۔ اس کے والدین، پانچ بھائی اور چار بہنیں زندہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ میراث کی تقسیم کس طرح ہوگی؟

جواب

میـــــــ(6)ــــــــــــــــــت

   ماں                   باپ    

    1                     5

بشرط صدق وثبوت اگر مرحوم کے مذکورہ بالا ورثا کے علاوہ اور کوئی قریبی وارث موجود نہ ہو تو بعد از ادائے حقوق متقدمہ علی الارث مرحوم کا ترکہ چھ(6) حصوں میں تقسیم کرکے مرحوم کی ماں کو 1/6 حصہ،  اور باپ کو 5/6حصےملیں گے، جب کہ باپ کی موجودگی کی وجہ سے بھائیوں اور بہنوں کا میراث میں کوئی حصہ نہیں بنتا۔

 

قال الله تعالى: ﴿‌وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ﴾. (النساء، الآية: 11)

وبنو الأعيان والعلات كلهم يسقطون بالابن وابن الابن وإن سفل، وبالأب بالاتفاق... إلخ. (السراجي في الميراث، ص:28، مكتبة البشرى، كراتشي)

والمحجوب يحجب بالاتفاق كالاثنين من الإخوة والأخوات فصاعدا، من أي جهة كانا؛ فإنهما لايرثان مع الأب ولكن يحجبان الأم من الثلث إلى السدس. (السراجي في الميراث، ص:45، مكتبة البشرى، كراتشي)


فتویٰ نمبر : 3526/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں