بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 25/10/2026 |
دارالافتاء
رکوع سے اٹھتے وقت امام کے پیچھے مقتدی کیا پڑھے
سوال
امام کے پیچھے نماز پڑھنے کی صورت میں مقتدی رکوع سے اٹھتے وقت سمع اللہ لمن حمدہ اور ربنا لک الحمد دونوں پڑھے یا صرف ربنا لک الحمد۔ نیز اگر کہیں پر بڑی جماعت ہو اور مکبر ربنا لک الحمد پڑھتا ہو تو وہاں کیا حکم ہو گا ؟ یعنی ربنا لک الحمد پڑھے یا نہیں ؟
جواب
رکوع سے اٹھتے وقت امام کے ذمے فقط تسمیع یعنی سمع الله لمن حمده پڑھنا ہے اور مقتدیوں کے ذمے فقط تحمید ربنا لك الحمد پڑھنا ہے ۔ نیز اگر مکبر ربنا لك الحمد کہے تب بھی مقتدی ربنا لك الحمد پڑھے گا ۔
وإذا اطمأن راكعا رفع رأسه وقال: سمع الله لمن حمده ... أما المفروض فقد ذكرناه وهو الانتقال من الركوع إلى السجود لما بينا أنه وسيلة إلى الركن، وأما سنن هذا الانتقال فمنها أن يأتي بالذكر؛ لأن الانتقال فرض فكان الذكر فيه مسنونا واختلفوا في ماهية الذكر، والجملة فيه أن المصلي لا يخلو إما أن كان إماما أو مقتديا أو منفردا، فإن كان إماما يقول سمع الله لمن حمده ولا يقول ربنا لك الحمد في قول أبي حنيفة ... واحتج أبو حنيفة بما روى أبو موسى الأشعري وأبو هريرة - رضي الله عنهما - عن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه قال:إنما جعل الإمام إماما ليؤتم به فلا تختلفوا عليه، فإذا كبر فكبروا، وإذا قرأ فأنصتوا، وإذا قال ولا الضالين فقولوا آمين، وإذا ركع فاركعوا، وإذا قال سمع الله لمن حمده فقولوا ربنا لك الحمد» قسم التحميد والتسميع بين الإمام والقوم فجعل التحميد لهم والتسميع له ... فإن كان مقتديا يأتي بالتحميد لا غير عندنا. (بدائع الصنائع ، كتاب الصلاة ، فصل في سنن حكم التكبير أيام التشريق ، ج:1 ، ص:209 )
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں