بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 13/08/2026

دارالافتاء

 

دباؤ کی وجہ سے طلاق نامہ پر دستخط کرنے سےطلاق کا حکم


سوال

 میرے اور بیوی کے درمیان مسئلہ آیا  تھا جس کے نتیجہ میں میرے منہ سے دو بارنکلا   (طلاق دیتا ہوں )جس پر میری بیوی اپنے  والد کے گھر چلی گئی۔ پھر کئی دن بعدمیں صبح سو رہا تھا اور اچانک میرے گھر والوں نے مجھے اٹھایا اور کہنے لگے، چلو کچہری چلتے ہیں،  میں نے کہا :میں نہیں چلتا جس پر میری امی کی طبیعت بگڑ گئی  اور اس کے بعد مجھے کچہری لے جایا گیا ،وہاں میری فیملی کے کچھ اور لوگوں کے ساتھ میرا بھائی بھی تھا ۔ اُنہوں نے سٹامپ پیپر  پہلے سے تیار کیا تھا اور کہا اس پر سائن کردو ۔ میں نے مزاحمت کی تو باقی فیملی ممبرز نے بھی مجھ پر دباؤ ڈالا کہ جلدی کرو۔ اور میں نے اس سے پہلے گھر میں بھی بتایا اور کچہری میں بھی بتایا کہ میں نے اس سے صرف دو بار طلاق کے الفاظ ادا کہے ہیں  جس کے گواہ بھی موجود ہے میرے علم میں یہ نہیں تھا کہ اس سٹامپ پیپر پر کیا لکھا ہے ، نہ میں نے پڑھا تھا نہ  مجھے سنایا گیا  تھا اور نہ مجھے پتہ تھا کہ یہ رشتہ ازدواج کو ختم کرنے کے لیے ہیں ۔

جواب

واضح رہےکہ تحریری طلاق نامے پردستخط کرنےسے طلاق کےوقوع کے لئے شوہرکاارادہ طلاق ضروری ہے،یعنی جب شوہر طلاق نامہ خودلکھ لےیالکھےہوئےطلاق نامےپرطلاق دینےکی نیت سےدستخط کرے تواس سےطلاق واقع ہوجاتی ہے،اور اگر  دستخط کرتے وقت طلاق کی نیت نہ ہویا سرے سے علم ہی نہ ہو کے یہ طلاق  نامہ   ہےتو ایسی صورت میں طلاق واقع نہیں ہو گی  ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر واقعی سائل نے گھر والوں کے دباؤ سے طلاق نامہ پر دستخط کیا تھا اور دستخط کرتے وقت طلاق دینے کی نیت نہیں تھی تو اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہو ئی  خواہ اس کو طلاق نامہ کا علم ہو یا نہ ہو ۔البتہ  سائل نے اس سے پہلے بیوی سے " طلاق دیتا ہوں" کے الفاظ دو مرتبہ کہے ہو ں تو اس سے دو طلاق رجعی واقع ہو گئی ہیں ، جس کے بعد عدت کے اندر اندر سائل اپنی بیوی کی طرف رجوع کر سکتا ہے جب کہ عدت گزرنے کے بعد محض رجوع کافی نہیں ، البتہ تجدید نکاح کر سکتے ہیں ۔ اور آئندہ صرف ایک طلاق دینے کا اختیار ہو گا ۔

 

‌رجل ‌أكره ‌بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته. (فتاوى قاضي خان ، كتاب الطلاق ، فصل في طلاق بالكتابة ، ج:1 ، ص:416 )

ويقع طلاق كل ‌زوج ‌بالغ ‌عاقل ولو عبدا أو مكرها فإن طلاقه صحيح.... وفي ‌البحر ‌أن ‌المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق، فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا، كذا في الخانية. (ردالمحتارعلى الدرالمختار ، كتاب الطلاق ، مطلب في المسائل التي تصح مع الإكراه ، ج:3، ص:336،335 )

 ‌وإذا ‌طلق ‌الرجل ‌امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها. (الهداية ، كتاب الطلاق ، باب الرجعة ، ج:2، ص:254 )


فتویٰ نمبر : 6805/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں