بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

کرایہ دار کا مالک کی زمین پر عمارت بنا کر خرچ شدہ رقم کرایہ سے کاٹنا


سوال

میں نے ایک شخص کے پلاٹ میں سکول تعمیر کروانا ہے جس كا تمام تر خرچ میرے ذمہ ہوگا ۔ پلاٹ کے مالک اور میرے مابین یہ طے ہوا ہے کہ ہم ایک مقدار کرایہ کی طے کرلیں گے ۔ اس میں سے 30 فی صد کرایہ اداکیا جائے گا ۔ بقیہ 70 فی صد بلڈنگ کی تعمیراتی قیمت کی ادائیگی کے طور پر کٹوتی ہوتی رہے گی ۔ اس طرح بالآخر سکول بلڈنگ بھی پلاٹ کے مالک کی ہو جائے گی اور کرایہ کی مقدار بھی بڑھا دی جائےگی ۔ کیا یہ صورت معاہدہ جائز ہے؟

جواب

مالک زمین اپنی زمین کرایہ دار کو اجرت پر دے اور دونوں کے درمیان یہ معاہدہ ہو کہ کرایہ دار اس زمین میں اپنا سرمایہ لگا کر تعمیر کرے اور جتنا خرچہ آئے وہ مقررہ ماہانہ کرایہ سے اس وقت تک کاٹتا رہے جب تک کرایہ دار کی خرچ کی ہوئی رقم مکمل نہ ہو تو اس کی دوصورتیں ہیں:

1۔مالک زمین اپنی زمین کرایہ دار کو اجرت پر دے اور دونوں کے درمیان یہ معاہدہ ہو کہ کرایہ دار اس زمین میں اپنا سرمایہ لگا کر مالک زمین کے لیے تعمیر کرے گا، جتنا خرچہ آئےگا، وہ مالک زمین پر قرض ہوگا اور وصولی کی صورت یہ ہوگی کہ مقررہ ماہانہ کرایہ سےکرایہ دار اپنی لگائی ہوئی رقم  اس وقت تک کاٹتا رہے گا جب تک اس کی لگائی ہوئی رقم مکمل نہ ہو ۔ یہ صورت شرعاًجائز ہے۔

2۔مالکِ زمین کرایہ دار کو زمین اجرت پر دے اور اس زمین میں کرایہ دار اپنے سرمایہ سے اپنے لیے عمارت تعمیر کرے اور زمین کے مالک کو صرف زمین کا کرایہ دیتا رہے ایسی صورت میں عمارت کا مالک کرایہ دار ہوگا اس لیے  مالکِ زمین پر اس کا کوئی قرض نہیں ہوگا، چنانچہ کرایہ سے کچھ نہیں کاٹ سکتا ۔تاہم  مدت اجارہ کے اختتام پر کرایہ دار اور مالک ِزمین باہم رضامندی سے  عمارت کی قیمت طے کریں اور مالک زمین وہ رقم کرایہ دار کو) یکمشت یا قسط وار)حوالہ کر کے عمارت کا بھی مالک بن جائے۔یا اگر قیمت پر اتفاق نہ ہوسکے تو کرایہ دار اپنی عمارت ہٹا کر مالکِ زمین کو زمین خالی کر کے دے دے۔ صورت مسؤلہ میں معاہدہ پوری طرح واضح نہیں ،تاہم مذکورہ بالا دونوں طریقوں میں سے کوئی ایک طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔

 

تصح ‌إجارة ‌أرض (للبناء والغرس) وسائر الانتفاعات كطبخ آجر وخزف ومقيلا ومراحا حتى تلزم الأجرة بالتسليم أمكن زراعتها أم لا بحر.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الإجارة، ج:6، ص:31)

‌إذا ‌استأجر ‌الرجل ‌من ‌آخر دارا بدين كان للمستأجر على الآجر يجوز.(الفتاوى الهندية، كتاب الإجارة، الباب الثاني فى بيان متي تجب الأجرة، ج:4، ص:446)

''قوله: و من بنى) ... (بغير إذنه) فلو بإذنه فالبناء لرب الدار، ويرجع عليه بما انفق''.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الغصب، ج:9، ص:283)


فتویٰ نمبر : 3542/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں